ٹاڈا کورٹ میں عینی شاہدین نے یاسین ملک کی شناخت کر لی
سری نگر/کے این ایس// سال 1990میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کے معاملے میں تہاڑ جیل میں بند کشمیر کے علیحدگی پسند لیڈر محمد یاسین ملک کو جموں کی ٹاڈا کورٹ میں دو اہم گواہوں نے ملزم کی حیثیت سے شناخت کر لی ہے۔ گواہوں نے ملک کے تین دیگر ساتھیوں کی بھی شناخت کی ہے، جن میں جاوید احمد میر، محمد رفیق پہلو (المعروف سلیم ننا جی) اور شوکت بخشی شامل ہیں.کشمیرنیوز سروس ڈڈیسک کے مطابق ٹاڈا کورٹ میں پیش کیے گئے گواہوں میں سے ایک بھارتی فضائیہ کا اہلکار تھا، جس نے یاسین ملک کو فضائیہ اہلکاروں پر فائرنگ اور قتل کا مرکزی ملزم ٹھہرایا۔ گواہ نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ ’’یاسین ملک ہی وہ شخص تھا جس نے گولیاں چلائیں اور اس حملے کا ذمہ دار تھا۔‘‘کیس کے اہم گواہ یاسین ملک کے علاوہ اس کے تین دیگر ساتھیوں کی بھی شناخت کر چکے ہیں۔ ملک اس وقت جیل میں ہے اور وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس مقدمے کی سماعت میں پیش ہوئے۔یاسین ملک کی شناخت اور ملزمان کے بارے میں گواہوں کی شہادت کے بعد کورٹ نے 29 نومبر کو اگلی سماعت مقرر کی ہے۔ اس سے قبل، فضائیہ کے سابق اہلکار راجوار سنگھ نے سی بی آئی کورٹ میں یاسین ملک کو اس واقعے کا مرکزی حملہ آور بتایا تھا، اور وہ خود بھی اس حملے میں زخمی ہوئے تھے۔یہ واقعہ 25جنوری 1990کو سرینگر کے راولپورہ علاقے میں پیش آیا تھا۔ جس میں انڈین ائیر فورس (فضائیہ) کے چار اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی اور چار افراد ہلاک اور22 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔یاسین ملک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نامی عسکری/علیحدگی پسند تنظیم کے سربراہ تھے جس پر مرکزی حکومت نے دفعہ 370کی منسوخی سے قبل ہی کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی تھی۔ ملک اس وقت تہاڑ جیل میں ہے اور دہلی ہائی کورٹ نے انہیں تا حیات قید کی سزا سنائی ہے تاہم ایجنسیز نے کورٹ میں ملک کو سزائے موت سنائے جانے کی عرضی دائر کی ہے جس پر سماعت جاری ہے۔










