مبشر حُسین میر
شخصیت جس کی جس قدر اہم ہوتی ہے اس کی یاد اور اس کا تذکرہ بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔آفاقی شخصیت کا تذکرہ بھی آفاقی نوعیت کا ہوتا ہے۔یہ تذکرہ کسی خاص قوم و مذہب سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کا سرچشمہ انسان کی پاکیزہ فطرت سے ہے۔چنانچہ اپنے محسنوں کی یاد منانا ایک فطری تقاضا ہے۔احساس شناس اقوام اپنے محسنوں اور شہداء کی یادگار پابندی سے مناتے آئے ہیں اور مناتے ر ہیں گے۔
سبطِ نبی ؐ سید الشہداء حضرت ابا عبداللہ الحُسین ؑنے بقائے دینِ حق اور باطل کی نابودی کے خاطر تاریخِ اسلام و انسانیت میں جو عظیم و فقیدالمثال کارنامہ انجام دیا وہ تا ابد لامثال ہے۔اسلام دشمن قوتوں نے دینِ اسلام کے انہدام کی جو منظم سازشیں کی تھیں وہ ایک منظم منصوبے اور حکمت عملی کے تحت بصور ت و بشکلِ یزید نمایاںہو ئیں۔ حضرت امام حُسین علیہ السلام نے اپنے قیام سے ان سازشوں کے تمام تار و پود اس طرح بکھیر دئے کہ خودیزید کے محل سے اذان گونجنے لگی۔حضرت امام حُسین علیہ السلام کا ذکر ہمیشہ بنی نوع انسان کو اس حقیقت سے متوجہ کرتا رہتا ہے کہ چوکنا رہ کر دشمنوں کے نقوش سے غافل نہ ہوکر کبھی بھی باطل پرست قوتوں کواپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہونا دینا چاہئے۔معرکۂ حق و باطل میں اپنی اور اپنے اعزہ و انصار کی شہادتِ عُظمیٰ کے بعد آنحضرت ؑ کی عظیم قربانیوں کا متواتر و مسلسل تذکرہ صدیوں سے بیشمار فیوض و فوائد کا حامل ہے۔ذیل میں محض چند کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
۱۔مودتِ محمدؐ و آلِ محمدؐ:
ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کے آل ؑکی مودت ایک مومنِ با عمل کا گرانقدر سرمایہ ہے۔جیسا کہ سورئہ مجادلہ کی آخری آیت بائیس(۲۲) میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے :
’’ جو لوگ خُدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تم اُن کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے گرچہ وہ اُن کے باپ ،بیٹے ،بھائی یا خاندان ہی کے لوگ (کیوںنہ) ہوں،یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان کو ثبت کر دیا ہے اور خاص اپنے نور سے ان کی تائید کی ہے اور ا ُن کو (بہشت کے)اُن (ہرے بھرے)باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں(اور وہ) ہمیشہ اس میں رہیں گے،خدا اُن سے راضی اور وہ خدا سے خوش،یہی خدا کا گروہ ہے ،سُن رکھو کہ خدا ہی کے گروہ کے لوگ دلی مرادیں پائیں گے ‘‘۔
مزید برآں پروردگارِ عالم نے سورئہ شوریٰ کی تئیسویں(۲۳) آیت میں اہلبیتِ رسول ؐ سے مودت کو اجرِ رسالت قرار دیا ہے۔ چنانچہ قرآنِ مقدس میںحُکمِ باری تعالیٰ ہوا ہے :
ــ’’ اے رسولؐ کہدیجئے کہ میںؐ اس تبلیغِ رسالت کا اپنے قرابتداروں(اہلبیت ؑ) کی مودت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا ‘‘۔
حضرت امام حُسین علیہ السلام کی عزاداری خدا اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دشمنوں سے بیزاری اور اہلبیت اطہار علیہم السلام سے مودت و عقیدت کا بہترین اظہار و ذریعہ ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی شخص رسالتماٰب ؐ کی محبت میں غرق و سرشار توہولیکن آنحضرت ؐ کے فضائل و مناقب سن کرخوش نہ ہو؟ آلِ رسول ؐ کے آلام و مصائب سے متاثر نہ ہو؟
۲۔نصرتِ حق:
حضرت امام حُسین علیہ السلام کا قیام بقائے دینِ حق اور مرگِ باطل کی خاطر تھا۔لہٰذا جب بھی اور جہاں بھی تذکرئہ حق و باطل ہوگا وہاں حق کی زندگی اور باطل کی موت کا ذکر ہوتا رہے گا۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے بنیادی دینی فرائض کا اہم ترین مقصد ہی نیکیوں کا رواج اور بُرائیوں کا خاتمہ ہے۔جب ہم حضرت امام حُسین علیہ السلام کے فرمودات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہر قدم پہ یہ امر واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ؑ نے اپنی حیاتِ طیبہ حتیٰ درجۂ شہادت پر فائز ہوکر بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکیلئے قیام کیا۔نصرت و دفاعِ حق سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں اورباطل کی پیروی سے زیادہ اور کوئی عمل بُرا نہیں۔
۳۔اخلاقی اقدار:
اس تذکرہ میں اخلاق و انسانیت کے بے مثل اور اعلیٰ ترین نمونے نظر آتے ہیں۔قرآنِ مقدس نے یاد دہانیوں پر کافی زور دیا ہے کیونکہ ان کے فوائد بہت وسیع ہیں۔مجالسِ عزائے سید الشہداء ؑ کے دوران فضائل و مناقب ، اعلیٰ ترین صفات و کردار کے جونمونے ذہن میں ابھرتے ہیں وہ اپنے آپ میں سبق آموز ہیں۔ان اسباق کو ذہن نشین رکھ کر ایک انسان کا دل کبھی نہ کبھی آمادہ بعمل ہو ہی جائے گا ۔
۴۔واقعہ کی تازگی:
اہلِ ظلم و جور اور ستمگروں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ نصرت و دفاعِ حق کے علاوہ مظلومیت کی یادیں انسانی اذہان سے محو کردی جائیں۔کفار و اہلِ باطل ہمیشہ سے ہی مشعلِ حق کو بجھانے کی کوششوں میں مصروفِ عمل رہے ہیں لیکن خداوندِ متعال اپنے نور و ضیا کو تمام و مکمل کر ے گا۔
عزاداری کے ذریعے نہ صرف واقعۂ کربلا ء کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں بلکہ اس سے تاریخِ اسلام اور عمومی تاریخ کو دوام ملتا ہے۔یہ عزائے حضرت ابا عبداللہ الحُسین علیہ السلام کا امتیاز ہے کہ وہ دشمنانِ اسلام اور محمدؐو آلِ محمد علیہم السلام کو اسلام کی ہئیت و تاریخ مسخ کرنے پہ بضد یزید ملعون اور اس کے پیشرئوں کو مقدس مآب بنا نے سے مانع ہے۔ اس وقت ہم جن اسلامی تاریخی حقائق سے مستفیض و مستفید ہورہے ہیں اس میں عزائے حضرت امام حُسین علیہ السلام کا نمایاں عمل دخل ہے۔
۵۔ظلم و بربریت سے نفرت:
صحرائے کربلاء میں عاشورئہ محرم ۶۱ ھ کو واقعۂ کربلاء کچھ اس طرح سے پیش آیا کہ جب ایک ہوشمند اور با ضمیرانسان اس کے تاریخی پس منظر و نوعیت پر غور فکر کرتا ہے تو وہ ظلم و ظالم دونوں سے متنفر ہوکر خود کو ایسے واقعات سے بیزاری ودور ی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
۶۔نرمئی قلب:
انسان کانوںکے ذریعے باتوں کو سنتا ،آنکھوں سے دیکھتا ہے اور دل کے ذریعے قبول کرتا ہے۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ رس کی بوندوں کو پتھر جذب نہیں کرسکتا۔سنگِ سخت کسی دانہ کو اپنی آغوش میں جگہ نہیں دیتا۔ان سب کیلئے نرمی لازمی ہے۔زمینِ نرم و ملائم ہی دانہ قبول کرتے ہوئے اُسے رشد و نمو عطا کرتی ہے۔
قلبِ نرم پر تو بات اثر کرتی ہے۔سنگ دِل اور شقی القلب شخص کسی بات کو قبول نہیں کرتا۔عزاداری بڑے بڑے پتھر دلوں کو تو کیا چٹانوں کو بھی نرم کردیتی ہے۔آنسوں دِل کی نرمی کا عندیہ دیتے ہیں۔جو کام بڑے بڑے حکما و اطبا نہیں کر پاتے وہ عزائے حضرت امام حُسین علیہ السلام کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔جب دِل نرم ہوتا ہے تو حق بات اثر کر جاتی ہے۔ایسے بیشمار لوگ ہیں جنہیں عزاداری نے منقلب کردیا ہے۔اس کی واضح مثال جناب حُر ؑ ہے۔یہ حضرت امام حُسین علیہ السلام کی حقانیت اور مظلومیت ہی تو تھی جس نے جناب حُر ؑ میں ایک انقلاب برپا کردیا تھا۔
۷۔دِل فضیلتوں کا مرکز:
جب انسان کا دِل نرم ہوکر حقانیت سے متاثر ہونے لگتا ہے تو اس میں اچھائیاں اور فضیلتیں گھر کرنے لگتی ہیں۔اُس کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے ، عزتِ نفس ، شجاعت و بہادری کے جواہر سامنے آنے لگتے ہیںاورظلم وظالم سے صف آرائی مقابلے کا حوصلہ پیداہوجاتا ہے۔بعد ازاں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مذکورہ انسان فضیلتوں کی خاطر ہر مشکل اور مصیبت کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے۔وہ ذلت کی زندگی کے مقابلے میں عزتِ نفس کے ساتھ اپنی موت کو ترجیح دیتا ہے۔ظلم اور ظالم سے مقابلے کا حوصلہ پیدا ہونا، تعداد و وسائل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حق پر انحصار کرکے میدانِ عمل میں ڈٹ جانے کی ترغیب فراہم کرنا ،عزائے حضرت امام حُسین علیہ السلام کا یہی ایک فائدہ کیا کم ہے؟اسی ایک فضیلت نے نہ معلوم کتنے انقلاب بپا کردئے اور مزید کتنے انقلابات عزادارانِ حُسین ؑ کے قلوب میں کروٹیں لے رہے ہیں۔
۸۔تعلیم و تربیت:
حضرت امام حُسین علیہ السلام کی عزاداری محض نقلِ واقعات اور داستان گوئی نہیں بلکی یہ تعلیم و تربیت کی ایک منفرد وعیاں،عظیم عالمگیر دانش گاہ ہے جہاں مختلف ماہر اساتذہ کے ذریعے عقائدواحکامِ دین،اخلاقیات، تاریخ اسلام، عبادات، قرآن و حدیث و فقہ ،دینی و سماجی معاملات اور دیگر مختلف النوعیت امورات پہ دروس دئے جاتے ہیں۔یہ ایک ایسی دانش گاہ ہے جہاں مناظرہ خطابت اور موعظہ کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔دنیا و آخرت کی کامیاب زندگی کا کامیاب طرز عمل یہیں سکھایا جاتا ہے۔البتہ ایک بات ضرور ہے کہ قومی امورات وحالات اور موجودہ تعلیمی روش کے مدِنظر مقررین و ذاکرین کی زبان اور سامعین کے اذہان میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔نئی نسل بات سن کرمفہوم تو نکال لیتی ہے مگر تہہ تک پہنچنے سے رہ جاتی ہے۔لہٰذا اگرمجالسِ عزائے سید الشہداء کے وقار و تقدس اور عظیم مقاصد کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے ایسے لب و لہجہ کو اختیار کیا جائے جس کا ہر اک لفظ سامعین بالخصوص نئی نسل کی سمجھ میں آجائے تو افادیت اور تاثیر میں کافی اضافہ ہو جائے گا۔اگر تمام باتوں کے ساتھ وقتی تقاضوں کو بھی مدِ نظررکھا جائے،مغربی اور غیر مغربی ممالک سے ثقافتی یلغارسے پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کو بھی بیان کیا جائے،فکری ذہنی اور عملی مشکلات کا واقعی حل پیش کیا جائے تو نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر نہایت مثبت اثرات پڑیں گے۔اس کے علاوہ ان کیلئے زندگی کی صحیح سمتیں واضح اور روشن ہوجائیں گی۔اس کا مطلب ہر گزیہ نہیں ہے کہ اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو اس تذکرہ کی کوئی افادیت نہیں ہے۔نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔تذکرہ کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔غرض و غایت یہ ہے کہ اگر ان مسائل پر بھی توجہ دی جائے تو افادیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
۹۔ بُری صُحبتوں سے تحفظ:
عزاداریٔ حضرت امام حُسین علیہ السلام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب تک انسان اس میں منہمک رہتا ہے وہ بہت سی بُرایٔیوں اور منکرات سے محفوظ رہتا ہے۔کم از کم ایک مدت کیلئے ہی سہی وہ باطل اجتماعات اور محافلِ معصیت سے دور ہوجاتا ہے۔یہ مختصر سی دوری بھی غنیمت ہے۔اس سے واضح ہوجاتا ہے اس کا دل پوری طرح سے مردہ نہیں ہوا ہے اور ابھی حیات کے اثرات نہ صرف باقی بلکہ اتنے مضبوط ہیں کہ وہ اسے محافلِ معصیت سے نکال کر مجالسِ عزا میں شرکت پہ آمادہ کرتے ہیں۔الغرض اگریہ جذبۂ خیر ذرا اور نم ہوجائے تو بڑا زر خیزثابت ہوگا۔یہی وہ درس گاہ ہے جہاں ضرورت ہے ایک ایسی خدائی توفیق اور امانتی عنایت و ہدایت کی کہ زبان پر وہ اس انداز سے آجائے کہ گناہوں کو چھوڑ کرآنے والا پھر گناہ کی سمت نہ جائے۔جناب حُر ؑ کی طرح آکر تو اُن ؑ ہی کی طرح باقی بھی رہ جائے۔
۱۰۔سماجی خدمات:
ایک دوسرے کی حاجتیں،ضرورتیں پوری کرنا ؛غریبوں کو کھانا کھلانا؛ محتاجوں،ناداروں کی مدد کرنا؛ایک دوسرے سے ملاقی ہونا؛ دینی ،علمی اور سماجی حالات سے واقف ہونا؛ایک دوسرے کے کام آنا یہ وہ جملہ عبادات و اعمال ہیں جن کا اجر عظیم ہے ۔عزاداریٔ حضرت امام حُسین علیہ السلام کے مقدس تذکرات میں یہ ساری باتیں یکجا نظر آتی ہیں۔
۱۱۔رشد و ہدایت:
حضرت امام حُسین علیہ السلام کے تذکرہ کا یہ وہ نمایاں پہلوہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔لوگ مجالسِ عزائے سید الشہداء علیہ السلام میں جس انداز سے اپنے تمام تر دنیاوی منصب و اقتدار،جاہ وجلال،رعب و دبدبہ سے بالا تر ہوکر شرکت کرتے ہیں اور جس طرح ایک غریب و نادار کے پہلو میں ایک سرمایہ دارفرشِ عزا پہ بیٹھ جاتا ہے،معمولی سے معمولی آدمی کے ساتھ پہلو سے پہلو ملاکر ایک اعلیٰ عہدہ دارفرش نشین ہوکر جس توجہ سے ذکرِ حُسین ؑ سنتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جب کوئی صاحبِ اقتدار حکومتی منصب کے نشے سے ، ایک دولتمندسرمایہ کی آفتوں سے،آگاہ ہوتے ہوئے بھی تھوڑی دیر کیلئے ہی صحیح اپنا اپنا جائزہ لیتا ہے تو اس کی نظرمیں ساری دنیا اور اس کا سرمایہ ،سارا اقتدار اور اس کی مادی و دنیاوی حیثیت بیحد حقیر معلوم ہونے لگتی ہے۔وہ لوگ جن سے گفتگو کیلئے بڑے بڑے افراد کانپتے ہیں،زبان ہلانے کی ہمت نہیں ہوتی،مجلسوں میں انہی لوگوں کو ہر ایک بات اور ان کے انجام سے با خبر کردیا جاتا ہے۔اظہارِ خیال کی یہ جرأت، رشد و ہدایت کا یہ ولولہ اور جذبہ ذکرِحُسین ؑ سے وابستگی کا نتیجہ ہے۔جس آسانی سے مختلف سطح کے لوگ ان مجالس میں جمع ہوکر شکر گذارہوتے ہیں وہ زرِکثیرخرچ کرکے اور دن رات ایک کرکے بھی کسی اور مقصدکیلئے غیر ممکن ہوتاہے۔مجالسِ عزائے سید الشہداء حضرت امام حُسین علیہ السلام میں آنے والا شخص شکر گذار ہوتا ہے جبکہ اس کے عین برعکس دیگر تقریبات میں بلائے جانے والے افراد شکریہ ادا کرتے ہیں۔
۱۲۔آمادگی برائے ظہورحضرت قائم آلِ محمد ؑ:
حضرت امام حُسین علیہ السلام کی عمومی زیارتوں میں اشارتاًاور زیارتِ عاشورہ میں خاص طور پر یہ جملہ ملتا ہے:
’’ فاسئل اللہ الذی اکرم مقامک و اکرمک منی بک ان یرزقنی طلب ثارک مع امام منصور من اھل بیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٰ۔۔۔۔۔‘‘(میں اس خدا سے سوال کرتا ہوں جس نے آپ ؑ کو عظمت و بلندی عطا کی اور آپ ؑ کی بدولت مجھے عزت دی کہ مجھے یہ توفیق دے کہ میں مہدی آلِ محمد علیہ السلام کے ہمراہ آپ ؑ کے خون کا بدلہ لے سکوں)۔اسی زیارت میں آگے چل کر یہ جملہ ملتا ہے’’ ان یرزقنی طلب ثاری مع امام مھدی ھدیً ظاھرٍ ناطق بالحق منکم۔۔۔۔۔ ‘‘خدایا مجھے یہ توفیق دے کہ میں امام ِمہدی و ہادی علیہ السلام جو آپ ؑ کے ہی قبیلہ سے وابسطہ ہیں، جو حق کے ساتھ ظاہر ہوں گے اورحق گوہیں ،کے ہمراہ آپ ؑ کا اورآپ ؑکے خون کا بدلہ لے سکوں۔(جس طرح سے ایک شخص اپنے خون کا بدلہ لینا چاہتا ہے ایک حقیقی مُحبِ ؑ و عزادارِ سید الشہداء انتقامِ خونِ حُسین ؑ کو اپنا بدلہ سمجھتا ہے)۔
حضرت امام حُسین علیہ السلام کی زیارت میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا تذکرہ اس مقصد کیلئے ہے کہ یہ مقدس و متبرک ذکر ، یہ عزاداری ،یہ مجلسیں ظہورِحضرت امام مہدی علیہ السلام کیلئے زمین ہموار کرنے کا ذریعہ ہیں اور کیوں نہ ہوں جس دین کی بقا کیلئے حضرت امام حُسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے اعزہ و احِبا کی عظیم و بے مثل قربانیاں دیں، قائمِ آل ِ محمدؑحضرت امام مہدی علیہ السلام اسی دینِ حق کو ساری دنیا میں رائج کرکے اسی کے عین مطابق حقیقی اسلامی نظام ِ حکومت اور عدل و انصاف قائم و رائج کریں گے۔قابلِ ذکر ہے کہ عزاداریٔ سید الشہداء علیہ السلام کے حقیقی وارث حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں اور وہی وارثِ غمِ سید الشہداء حضرت ابا عبداللہ الحُسین علیہ السلام ہیں۔
پروردگارِ عالم ہمیں صدق دلی سے اپنے امامِ وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں ان کے جدِ مظلوم سید الشہداء حضرت ابا عبداللہ الحُسین علیہ السلام ا ور آنحضرت ؑ کے جاں نثاروں کی مُخلصانہ تعزیت پیش کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
عظم اللہ لک الاجر یا مولایٔ یا صاحب الزمان عجتفش
یا مولا یا صاحب الزمان ؑاس مصیبتِ عُظمیٰ میں خدا آپ کو صبر اور اجرِ عظیم مرحمت فرمائے۔
خدایا تجھے سید الشہداء حضرت امام حُسین علیہ السلام اور اُن کے اصحابِ باوفا کی معرفتوں،قربانیوں، فداکاریوں،شجاعتوں،جانبازیوں،استقامتوں،عبادتوں کا واسطہ ان کی طرح ہمیں بھی اپنے امامِ وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اعوان و انصارمیں شمار فرما۔
اللہم یا رب الحُسینؑ ، بحق الحُسینؑ اشفع صدر الحُسینؑ بظور الحجۃؑ
برحمتک یا ارحم الراحمین۔آمین یا رب العالمین۔
منابع: قرآنِ مقدس ، المنتظر، زیارتِ عاشورا۔
تالیف وتدوین :
مبشر حُسین میر
۱۲۸ – حسن آباد ، سرینگر کشمیر ۔
- 91 – 941 908 4767










