dooran news

فروری2021سے لائن آف کنٹرول پرامن وامان

ہندو پاک کے درمیان سفارتی و دیگر طریقہ کار کے ذریعے مواصلاتی رابطہ برقرار:مرکزی وزارت داخلہ

سری نگر / /مرکزی وزارت داخلہ نے منگل کے روز کہاکہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار فائرنگ کے واقعات میں تیزی سے کمی درج کی گئی ہے۔تاہم وزیر مملکت برائے امور داخلہ نیتیانند رائے نے کہا کہ اپنے زیر کنٹرول کسی بھی علاقے کو بھارت کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینا پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان متعلقہ ہائی کمیشنوں اور دیگر قائم کردہ طریقہ کار کے ذریعے مواصلات کے باقاعدہ ذرائع کو برقرار رکھتے ہیں۔مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق 2020 میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی تعداد کے مقابلے میں جون 2021تک جموں و کشمیر میں پاکستان کی جانب سے سرحد پار فائرنگ کے واقعات میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی۔کشمیرنیوزسروس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق لوک سبھا کے ارکان اسد الدین اویسی اور کرشنا پال سنگھ یادو کے سوالات کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نیتیانند رائے نے کہا کہ جون 2021تک جنگ بندی کی خلاف ورزی کے 664 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 2018 میں جنگ بندی کی1402 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں ، 2019 میں مجموعی تعداد 4793 اور 2020 میں 1335 رہی۔ مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے مشترکہ تقابلی اعداد و شمار نے سرحد پار فائرنگ میں زبردست کمی ظاہر کی۔ جنوری اور فروری میںبالتریب380 اور 278 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پچھلے سال ، اعداد و شمار 394 اور 389 تھے۔ وزیر مملکت برائے امور داخلہ نیتیانند رائے نے کہا کہ تاہم رواں سال مارچ میں ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ، جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران 454 واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اپریل2021 میں بھی صرف ایک واقعہ پیش آیا ، جو گزشتہ سال اپریل میں 412واقعات رپورٹ ہوئے تھے ، جبکہ مئی2021 میں3 واقعات درج کئے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ کے دوران398واقعات رپورٹ ہوئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ جون2020 میں 423واقعات کے مقابلے میں جون2021 میں صرف 2ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ۔داخلی امور کے وزیرمملکت کی جانب سے تحریری جواب میں کہا گیا کہ بھارتی فوج اور بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور انٹرنیشنل بارڈر (آئی بی) پر بلا اشتعال فائرنگ اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی صورت میں فوری اور موثر جوابی کارروائی کی جاتی ہے۔انہوں نے ایوان کوبتایاکہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر طے شدہ بات چیت کے بعد 25 فروری 2021 کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ، جس میں ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایل او سی کے ساتھ تمام معاہدوں ، افہام و تفہیم اور جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا۔ اور 24و25 فروری 2021 کی آدھی رات سے معاہدے نافذ ہیں۔مرکزی وزیر نے کہاکہ اطلاعات کے مطابق ، جموں و کشمیر کے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ کئی ممالک نے ایک اہم اور مثبت قدم کے طور پر ترقی کا خیرمقدم کرتے ہوئے بیانات جاریکئے ہیں۔ تاہم وزیر مملکت برائے امور داخلہ نیتیانند رائے نے کہا کہ اپنے زیر کنٹرول کسی بھی علاقے کو بھارت کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینا پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان متعلقہ ہائی کمیشنوں اور دیگر قائم کردہ طریقہ کار کے ذریعے مواصلات کے باقاعدہ ذرائع کو برقرار رکھتے ہیں۔کنٹرول لائن کے قریب علاقوں میں ہتھیاروں کے قبضے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیرمملکت نے ایوان کویہ جانکاری فراہم کی کہ2018 ، 2019 اور2020 میں سیکورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں تلاشی کارروائیوںکے دوران100 اے کے سیریز رائفلیں ،10 ہزار سے زیادہ گولیاں ،79 پستول ، 1676گولیاں، 22 انڈر بیرل گرینیڈ لانچرز (یو بی جی ایل) کے ساتھ 107 یو بی جی ایل گرینیڈ ، 248 ہینڈ گرنیڈ ، 6 دھماکہ خیز آلات ، 4 راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ ، 4 ایم 4 کاربائنز اور 6 کلو دھماکہ خیز مواد ، 14 ڈیٹونیٹرز برآمد کرکے ضبط کئے ہیں ۔