fake pension case

فرضی پنشن کیس :اہلیہ کوبیوہ والدہ جتلاکر9لاکھ روپے ہڑپ

کرائم برانچ کشمیرنے کیا 5ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر

پلوامہ//کرائم برانچ کشمیر نے 5 ملزموں کے خلاف مبینہ طور پر ایک خاتون کا جعلی پینشن کیس تیار کرکے اس کے حق میں بھاری رقم جمع کرانے کے الزام میں چارج شیٹ پیش کی ۔جے کے این ایس کے مطابق کرائم برانچ کشمیر کے ایک ترجمان نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ کورٹ آف سپیشل موبائیل مجسٹریٹ پلوامہ میں5 افراد کے خلاف درج ایف آئی آر کے تحت چارج شیٹ پیش کیا گیا۔بیان میں ملزمان کی شناخت فضی بیگم زوجہ عبد الرشید لاوے ، ان کے شوہر عبدالرشید لاوے ولد عبدالرحیم لاوے ساکنان لر گام ترال،علی محمد وانی ولد غلام محی الدین وانی ساکن گورنمنٹ ہاؤسنگ کالونی بمنہ سری نگر، جواس وقت ایگزیکیٹو انجینئر آر اینڈ بی ڈویڑن پلوامہ تھے، ہربھجن سنگھ ولد لال سنگھ ساکن بے گنڈ ترال، جو اس وقت جونیئر اسسٹنٹ تھے اور ایاز مشتاق بٹ ولد مرحوم عبدالغفار بٹ ساکن کریوا کولگام، جو اس وقت اسسٹننٹ اکاؤنٹس افسر آر اینڈ بی ڈویڑن پلوامہ تھے،کے بطور کی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ کرائم برانچ کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ عبدالرشید لاوے جو آر اینڈ بی ڈویڑن پلوامہ کا ایک ملازم ہے، نے اپنے والد کا خاندانی پینشن کیس دھوکہ دہی سے حقیقی دعویدار (جو اس کی والدہ تھی) کی بجائے اپنی اہلیہ کے حق میں تیار کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ شکایت موصول ہونے پر کرائم برانچ نے تحقیقات شروع کی اور تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے آر اینڈ بی ڈویڑن پلوامہ کے متعلقہ ملازموں کے ساتھ مجرمانہ سازش کرکے جعلی دستاویزات تیار کئے ہیں اور اس طرح مرحوم ملازم کی بہو، جو ملزم کی اہلیہ ہے، کے حق میں خاندانی پینشن کیس تیار کیا ہے اور فضی بیگم کو مرحوم عبدالرحیم لاوے کی بیوی قرار دیا گیا ہے۔کرائم برانچ کشمیر کے ترجمان نے کہا کہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر مجاز حکام نے مذکورہ خاتون کے حق میں خاندانی پینشن مقرر کیا اور یہ دیکھا گیا کہ اس خاتون نے خزانہ عامرہ سے بھاری رقم بطور پینشن وصول کی ہے۔انہوں نے بیان میں کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پینشن کی اصلی دعویدار جانہ زوجہ مرحوم عبدالرحیم لاوے ہے جو اپنے شوہر سے پہلے ہی فوت ہوچکی تھی۔بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے ایک دوسرے کے ساتھ مجرمانہ ساز باز کرکے جعلی پینشن بک اور دیگر متعلقہ دستاویز تیار کئے تھے اور مذکورہ خاتون کے حق میں خزانہ عامرہ سے ساڑھے9 لاکھ روپے بطور پینشن نکالے گئے ہیں۔