ہائی کورٹ کے نام پر جعلسازی، کرائم برانچ نے مقدمہ درج کر لیا
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے ہائی کورٹ کے نام پر مبینہ طور پر فرضی تقرری نامے جاری کر کے دو افراد سے دھوکہ دہی کرنے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے اتوار کے روز اس کی تصدیق کی۔یو این ایس کے مطابق سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اسپیشل کرائم وِنگ) جموں سنجے پریہار کے مطابق ملزم محمد طاہر، ساکن بنولا، ضلع پونچھ، کے خلاف دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہفتہ کے روز دو متاثرہ افراد کی شکایات موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا، جن میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم نے مالی رقم کے عوض انہیں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے نام پر جعلی تقرری نامے فراہم کیے۔ایس ایس پی کے مطابق ملزم کی پہلی شکایت کنندہ سے ملاقات جموں سے روڑکی جانے والی ٹرین کے سفر کے دوران ہوئی، جس کے بعد دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہوئے۔ اسی واقفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے شکایت کنندہ کو ہائی کورٹ میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیا۔یو این ایس کے مطابق افسر کے مطابق اس جھوٹے وعدے پر شکایت کنندہ نے ملزم کو دو لاکھ روپے ادا کیے، جس کے بعد اسے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے نام سے جاری ایک تقرری نامہ دیا گیا۔ تاہم جب شکایت کنندہ تقرری کے لیے ہائی کورٹ حکام کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ تقرری نامہ جعلی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم دوسری شکایت کنندہ کو کافی عرصے سے جانتا تھا۔ اس نے ابتدا میں اپنی بیوی کے علاج کے بہانے اس سے دو لاکھ روپے حاصل کیے۔ بعد ازاں ملزم نے اس کے بیٹے کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر اس کی دستاویزات حاصل کیں اور اسے بھی دھوکہ دیا۔ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں تقرری نامے جعلی تھے۔ شکایات موصول ہونے کے بعد کی گئی ابتدائی تصدیق میں الزامات درست پائے گئے، جس کے بعد بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔










