سرینگر/اے پی آ ئی//فاسٹ ٹریک بنیادوں پرسرکاری اداروں میں خالی پڑی اسامیو ںکوپرُکرنے انتظامیہ کے دعوے اس وقت بے بنیاد ثابت ہورہے ہے جب لاء ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پنچایت اکاونٹس افسران کی تعیناتی 35دنوں کے بجائے 45ہفتوں سے ابھی بھی طشنیہ طلب ہے ۔سروس سلیکشن بورڈ کے مطابق تمام تیاریاں مکمل کی گئی ہے تاہم متعلقہ ادارے کی جانب سے ابھی تک اس سلسلے میں راہ ہموار نہیں کی جارہی ہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق سال 2020کے وسط میں جموںو کشمیر انتظامیہ نے پنچایت اکاونٹس افسران کی اسامیوں کوپرُکرنے کیلئے نوٹس اجراء کردی سروس سلیکشن بورڈکی جانب سے اس ضمن میں تحریر ی امتحان بھی لئے گئے جس میں ایک لاکھ 60ہزارکے قریب امیدواروں نے شرکت کی تحریری امتحان کے بعد پنچایت اکاونٹس افسران کی 1899اسامیوںکوپرُکرنے کے لئے سروس سلیکشن بورڈ نے لسٹ بھی منظرعام پرلائی اور لاء ڈیپارٹمنٹ کودیگر لوازمات پوراکرنے کے لئے روانہ کیا۔انتظامیہ نے پنچایت اکاونٹس افسران کی اسامیاں45دنوں کے اندر اندر پرُکرنے کی ہدایت کی تھی تاہم ا ب 45ہفتے گزر گئے لاء ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ابھی تک یہ طئے نہیں کیاجارہاہے کہ پنچایت اکاونٹس افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے یانہیں حالانکہ لسٹ منظر عام پرآنے کے بعد منتخب امیدواروں کی ویرفکیشن کے سلسلے میں بھی اقدامات اٹھائے گئے تاہم ابھی تک ان امیدواروں کواپنی اپنی جگہوں پرتعینات کرانے کے بارے میں کسی بھی طرح کافیصلہ نہیں لیاجارہاہے جسے منتخب امیدوار اب ذہنی پریشانیوں میں مبتلاہوگئے ہے ،جبکہ دوسری جانب سرکار نے وہ احکامات بھی بے معنیٰ ہوکررہ جاتے ہے جسمیں ہدایت کی گئی تھی کی 45دنوں کے اندراندر اس معاملے کوحل کیاجاناچاہئے پنچایت اکاوٹس افسران کی تعیناتی کے ضمن میں جب سروس سلیکشن بورڈ کے ساتھ جب رابطہ قائم کیاگیاتو انکامانناتھا کہ بورڈ نے وہ تمام لوازمات پورے کئے جواس کے لئے درکار تھے اب یہ لاء ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ پنچایت اکاونٹس افسران کی تعیناتی عمل میں لائے ۔










