سرینگر/اے پی آئی//وادی کشمیر میںپالیتھین لفافوں پر سرکار کی جانب سے عائد کی گئی پابندی ٹائیں ٹائیں فش ہردن وادی کشمیر کے بڑے شہروں قصبوں میں لاکھوں روپے مالیت کے پالیتھین لفافے پہنچانے کی کارروائیان جاری جس سے نہ صرف سرکار اور عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا ئی جارہی ہے، بلکہ وادی کشمیر کی آبی پناہ گاہوں قابل کاشت اراضی کو بنجر بناکر وبا ئی بیماریاں پھیلانے اور ماحولیات کوآلوہ بنانے کے منصوبوں کو پائی تکمیل تک پہنچانے کی کارروائیاں انجام دی جارہی ہیں۔پالیتھین کے استعمال کوروکنے کے لئے سرکار خاموش کیوں ہے اس پرمختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری کی جارہی ہے نہیں تو غیر قانونی کاروبار کوکس طرح سے جائز ٹھہرایا جاتا ۔
نیوز ڈیسک کے مطابق ماحولیات کا آلودگی سے بچانے آبی پناہ گاہوں قا بل کاشت اراضی کودلدل میں تبدیل ہونے سے روکنے اور و بائی بیماریوں کوقا بو کرنے کے لئے جموںو کشمیرسرکار نے کئی برس پہلے جموںو کشمیر میں عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے بعد پالیتھین کے استعمال پرپابندی عائد کردی ۔سال 2021 کے دوران جموں وکشمیرکے لیفٹننٹ گورنر نے کئی تقریبات کے دوران پالیتھین کے استعمال پرپابندی عا ئد کرنے پرمنعقد کی جانے والی تقریبات کے دوران سرکار کی جانب سے اس بات کاعہدکیاکہ جموں وکشمیرمیں اس وباء کو اب مزید بڑھنے نہیں دیاجائیگا تاہم جہاں تک وادی کشمیرکاتعلق ہے پالیتھین کے استعمال پر عائد کی گئی پابندی ٹائین ٹائیں فش ثابت ہورہی ہے ہر دن ملک کی مختلف ریاستوں اور جموں صوبہ سے لاکھوں رو پے ملایت کے پالیتھین لفافے بڑے شہروں قصبوں اور دیہی علاقوں تک پہنچائے جاتے ہے یہ کھیل کئی برسوں سے در پردہ جاری ہے ۔ملک کی مختلف ریاستوں سے جوبھی اشیاء وادی کشمیر پہنچائی جارہی ہے ا سکا معائنہ کرنے کے لئے کئی ٹول پلازہ ہے جہاں مال بردار ٹرکوں کے ڈرائیو رکوٹیکس اد اکرتے ہے اور مختلف اداروں کی جانب سے ان مال بردار ٹرکوں میں لدے ہوئے مال کابھی جائزہ لیاجاتاہے کہ کہی غیر قانونی کارروائی عمل میں تو نہیں لائی جارہی ہے ۔
ستم ظریفی کایہ عالم ہے کہ ہرایک شخص اس بات سے با خبر ہے کہ پالیتھین لفافوں کااستعمال ا سکے لئے نقصان دہ ہے اس کے استعمال سے نہ صرف ا س کاآس پاس کاماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ پالیتھین لفافوں کے بے تحاشہ استعمال سے وادی کشمیرکی آبی پناہ گاہوں جنگلوں قابل کاشت اراضی کو جس بڑے پیمانے پرنقصان پہنشا ہے ا سکی تلافی کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے ۔جہاں عام لوگ بے حس غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں وہی سرکار نے بار بار اس بات کااعادہ کیاکہ پالیتھین کے لفافے کو کسی بھی صورت میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جموںو کشمیرمیں جواس کاروبا رکے ساتھ جڑے ہوئے ہیں انہیں دوسرے کام دلانے کی کوشش کی جائیگی تاکہ سرکار کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کویقینی بنایاجسکے ۔
جموں وکشمیرکے لیفٹننٹ گورنر کی جانب سے جب پالیتھین مخالف مہم کاآغاز کیاتو کئی ادروں نے جن میں بلدیاتی اداروں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیاتھا پالیتھین مخالف مہم شروع کی جس سے مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد میں اس بات کی امید پیدا ہوگئی کہ واقعی اب جموںو کشمیرمیں بالعمو م او ر وادی کشمیرکو پالیتھین کے استعمال سے نجات ملے گی تاہم بلدیاتی ادقروں اور صوبائی ا نتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی یہ مہم نامعلوم وجوہات کی بناء پرٹھنڈے بستے میںڈال دی گئی وادی کشمیرکے بڑے شہروں قصبوں اور دیہی علاقوں میں کھلے عام پالیتھین لفافوں کااستعمال ہورہاہے چراغ تلے اندھیرا کے مسداق مختلف اداروں اور متعلقہ اداروں کے تمام افسران او ران کاماتحت عملہ ہر دن بازاروں سے گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی اشیاء بازاروں سے ضرور خریدتے ہونگے اور بازاروں میں فروخت کرنے والے انہیں یہ اشیاء پالیتھین لفافوں میں ہی ہاتھوں میں تھمادیتے ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جن اداروں کویہ ذمہ داری دے دی گئی ہے کہ وہ پالیتھین کے استعمال کونا ممکن بنادے گا ان افسروں اور ان کے ماتحت عملے کوہی پالیتھین لفافوں میں بازار سے خریدی گی چیز ہاتھ میںتھما دی جائے تو وہ اپنے فرائض کے ساتھ کس قدر انصاف کرتے ہے یہ تو نہ لکھنے کی ضروت ہے نہ پوچھنے کی یہ ہمارے سرکاری افسروں ان کے ماتحت عملے اور عام لوگوں کی حساسیت اور غیرسنجیدگی کامنہ بولاثبوت ہے کہ وادی کشمیرکوماحولیات کی آلودگی کی زد میں لانے وبائی بیماریاں پھیلانے آبی پناہ گاہوں کودلدل میں تبدیل کرنے کی کارروائیاں نادانستہ طور پراپنے ہاتھوں سے ہی انجام دے رہے ہے ۔ماحولیات کوآلودگی سے پاک رکھنے کے لئے جوعلمبردار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوںنے سرکار کی اس بے حسی پر حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف اداروں میں شفافیت قائم کرنے جواب دیہی کویقینی بنانے رشوت کوجڑ سے اُکھاڑ پھینک دینے کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہے اور دوسری جانب اگرہردن وادی کشمیرمیں لاکھوں روپے کے پالیتھین لفافے پہنچائے جاتے ہے کیایہ قا نونی طور پر کارروائی انجام دی جارہی ہے کیاقانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کوکھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کیاا سکے پیچھے رشوت کا رفرما نہیں ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کاصوبائی انتظامیہ کے بغیراور کوئی جواب نہیں دے سکتاہے۔










