یروشلم/ایجنسیز// غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ جمعہ کو دوپہر 12 بجے باضابطہ طور پر نافذ ہوگیا، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب قابض اسرائیلی حکومت نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں طے پانے والے معاہدہ کی توثیق کی۔قابض اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ جنگ بندی معاہدہ دوپہر 12 بجے سے نافذالعمل ہو چکا ہے اور اس کے تحت قابض فوج نے اپنی فورسز کو نئی آپریشنل پوزیشنز پر منتقل کردیا ہے۔ یہ اقدام جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق طے شدہ انتظامات کے مطابق کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق اب شہریوں کو غزہ کے جنوبی علاقوں سے شمالی حصوں تک الرشید سڑک اور صلاح الدین سڑک کے راستے آمد و رفت کی اجازت دے دی گئی ہے۔میڈیا کے مطابق، ہزاروں فلسطینی شہریوں نے آج صبح ہی وسطی غزہ سے اپنی بستیوں اور گھروں کی جانب واپسی شروع کر دی۔ کئی خاندان اپنی باقی ماندہ متاع حیات کے ساتھ شمالی غزہ کی جانب روانہ ہوئے، جہاں قابض اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے بعد تباہ شدہ علاقے ملبے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔گذشتہ شب حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے اپنے ایک ٹی وی خطاب میں اعلان کیا تھا کہ دو برسوں سے جاری قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے بعد ایک مستقل جنگ بندی معاہدہ پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے بین الاقوامی ثالثوں کے تعاون سے ایک ایسا معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت جنگ کا مکمل خاتمہ، قابض افواج کا غزہ سے انخلا، رفح کراسنگ کے ذریعہ انسانی امداد کی آمدورفت کی اجازت، اور قیدیوں کا باہمی تبادلہ شامل ہے۔خلیل الحیہ نے وضاحت کی کہ اس معاہدہ کے تحت 250 ایسے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جنہیں عمرقید کی سزائیں سنائی گئی تھیں، جبکہ 1700 دیگر فلسطینی قیدیوں کو بھی رہائی ملے گی جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔










