غزہ میں اسرائیلی حملوں میں صحافی سمیت 22فلسطینی ہلاک، مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا خطرہ

غزہ میں اسرائیلی حملوں میں صحافی سمیت 22فلسطینی ہلاک، مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا خطرہ

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک صحافی سمیت 22 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ غزہ کے شجاعیہ علاقے میں اسرائیلی فضائیہ نے ایک گھر کو نشانہ بنایا جس میں 8 افراد کی جانیں چلی گئیں، اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب یہ افراد اپنے گھروں میں موجود تھے۔ غزہ کے صحت کے حکام کے مطابق، اس حملے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ، اسرائیلی فضائی حملے نے غزہ کے وسطی علاقے میں البریج پناہ گزین کیمپ کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔ خان یونس میں بھی اسرائیلی حملوں کے بعد مختلف مقامات سے چار افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ غزہ کے حکام نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی شدت کو اجاگر کیا ہے، اور کہا ہے کہ ان حملوں نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
اس دوران غزہ کے ایک اور علاقے، النصرات میں ہونے والی بمباری کے دوران، معروف صحافی سعیّد نبعان بھی جان بحق ہو گئے۔ نبعان، جو کہ غزہ میں آل غاد ٹی وی کے لیے کام کر رہے تھے، اسرائیلی حملوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس کے ساتھ ہی غزہ کے حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ 7اکتوبر 2023کے بعد سے جنگ کے دوران اب تک 203 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
غزہ کے وزیر برائے مواصلات عبدالرزاق النتیشا نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ایندھن کی کمی کے باعث جمعہ کی رات تک انٹرنیٹ اور لینڈ لائن کی خدمات بند ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف مواصلاتی خدمات بلکہ ایمرجنسی صحت کی خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
غزہ میں صحافیوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے، اور کئی عالمی تنظیموں نے صحافیوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ فلسطینی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی ان کارروائیوں کو روکے اور غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی کے معاملے پر فوری اقدامات کرے۔