معاشی اور اقتصادی بحران نے اب وادی کشمیر میں سنگین راُخ اختیار کیاہے نچلی سطح پرتعمیراتی سرگرمیوں کو انجام دینے کے ضمن میں صوبائی انتظامیہ کے تمام دعوے بے بنیاد ثابت ہورہے ہے ایم جی نریگا اسکیم بھی اب دم توڑ چکی ہے اور جاب کارڈہولڈروں کواب کھانے کے لالے پڑ گئے ہے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبے شدیداقتصادی بدحالی سے دوچار ہے ۔جہاں ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام کشمیری کوبری طرح سے متاثرکردیاہے وہی اقتصادی اور معاشی بد حالی نے کشمیر وادی کے طول ارض میں بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے تزبزب غیریقینیت نے عام کشمیری کو پریشانیوں میں مبتلاکرکے رکھ دیاہے زمینی سطح پر تعمیروترقی کے فقدان نے مزدوروں ہنرمندوں کاریگروں کواسقدر پریشانیوں میں مبتلاکردیاکہ اس سے دووقت کی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہی نہیں نا ممکن ہورہاہے ۔رواں برس کے ابتداء میں صوبائی انتظامیہ نے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کو راحت پہنچانے کے سلسلے میں کئی طرح کے اعلانات کئے تھے تاہم سرکار کی جانب سے جن اسکیموں کوبروئے کار لانے کااعلان کیاگیاتھا وہ زمینی سطح پرکئی بھی فعال ثابت نہیں ہورہی ہے جسکی وجہ سے لوگ معاشی اور اقتصادی بدحالی کی لپیٹ میں آ گئے ہے دور درازدیہی علاقوں میں ایم جی نریگااسکیم کسی حد تک معاون ثابت ہورہی تھی اور بڑ ی تعداد میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسرکرنے والے جاب کارڈہولڈر مزدوری کرکے اپنی پیٹ کی آگ کوبجھارہے تھے تاہم پچھلے کئی ماہ سے ایم جی نریگا اسکیم بھی اب دم توڑ چکی ہے اور جاب کارڈ ہولڈروں پنچوں سرپنچوں کے مطابق ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں جوپلان انہوںنے سرکارکودیئے تھے رقومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ پورے نہیں ہوئے ہیں جسکی وجہ سے بیکاری میں مزیداضافہ ہوا ہے ۔نامساعدحالات کروناوائرس کی وبائی بیماری کی وجہ سے پرائیویٹ سطح پربھی اب تعمیراتی سرگرمیاں نہیں ہوپارہی ہے جومزدوروں ترکھانوں گلکاروں کیلئے وبالجان بنتاجارہاہے ۔وادی کشمیرمیں ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرح معاشی اور اقتصادی بدحالی سے لوگ تنگ آ چکے ہیں ضروریات کوپوراکرنے میں غریب عوام کوکافی مشکلات سے گزرنا پڑرہاہے سرکاری کامانے توسب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے کہی پربھی معاشی اور اقتصادی بدحالی نے بحرانی صورت اختیارنہیں ہے تاہم جہاں تک زمینی صورتحال کاتعلق ہے لو گ مشکلات سے دوچارہیں ۔سرکاری کوچاہئے کہ سرکاری سطح پرتعمیراتی سرگرمیوںکویقینی بنانے کیلئے بڑے پیمانے پراقدامات اٹھائے تاکہ جوہزاروں کی تعد ادمیں مزدور بیکار پڑے ہوئے ہیں انہیں اپنی پیٹ کی آگ کوبجھانے کے لئے مزدوری مل سکے اوروہ اپنی ضرروتوں کوپوراکرسکے صورتحال دن بدن بد سے بدترہوتی جارہی ہے سرکار نے اس کاسنجیدہ نوٹس نہیں لیاتوحالات مزیدابترہونگے جن پرقابوپانامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا۔










