غرقآبی کے بڑھتے واقعات قابل تشویش، پلوں کی فنسنگ کی جائے

بجلی کی فراہمی میں معقولیت لانے کیلئے اقدامات ناگزیر ۔ سنجے صراف

سرینگر//وادی میں خاص طور پر سرینگر شہر میں غرقآبی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کاا ظہار کرتے ہوئے راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے صراف نے ایل جی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ تمام پلوں کے ارد گرد فینسگ کی جائے اور دریائے جہلم پر بنے پلوں اور دیگر دریائوں میں ’’ریور پولیس ‘‘ کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے ۔انہوںنے کہا کہ بجلی کی بار بار کٹوتی سے لوگ تنگ آچکے ہیں لوگوں کو بلا خلل بجلی فراہم کی جانی چاہئے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر خاص طور پر سرینگر شہر میں نوجوانوں اور بچوں کے غرقآب ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں جس پر راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے صراف نے کہا ہے کہ آئے روز اس طرح کی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ چھوٹے لڑکے اور بچے دریائے جہلم میں ڈوب گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس کے علاوہ دریائے جہلم میں کود کر خود کشی کے بھی واقعات بڑھ رہے ہیں جو قابل تشویش بات ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس کو رروکنے کیلئے پلوں کے ارد گرد تار بندی کی ضرورت ہے اور سرینگر کے ہر پل کی فینسنگ کی جائے ۔ اس موقعے پر انہوں نے بتایا کہ یہاں پر پہلے سے ہی ’’ریور پولیس ‘‘ ہے جن کو فوری طور پر دریائے جہلم اور پلوں پر تعینات کیا جائے تاکہ اس طرح کے حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کیا جاسکے ۔ سنجے صراف نے مزید کہا کہ اس ضمن میں ایل جی منوج سنہا ،ڈویژنل کمشنر کشمیر ، ڈی سی سرینگر کو فوری اقدامات اُٹھانے چاہئے ۔ اس دوران انہوںنے وادی میں منشیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی اینٹی ڈرگ مہم شروع کردی ہے اور آنے والے دنوں میں ہم محلہ سطح پر آگاہی چلائیں گے ۔ انہوںنے بتایاکہ منشیات کی وباء کے خاتمہ کیلئے محلہ کمیٹیوں کو بھی متحرک ہونا چاہئے ۔ سنجے صراف نے وادی کشمیر میں بجلی کی بار بار کٹوتی پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں میٹر لگائے جاچکے ہیں اور لوگ بجلی فیس بھی وقت پر اداکرتے ہیں ان علاقوں میں بھی بجلی کی کٹوتی کا لوگ سامنا کررہے ہیں ۔ا نہوں کہا کہ بجلی کی فراہمی میں معقولیت لائی جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات ملے ۔