بہار کی آمد، فصل کی خوشحالی اور اجتماعی یکجہتی کی علامت بن چکا صدیوں پرانا لوک رقص
سرینگر//یو این ایس// جب وادی کشمیر میں چناروں کے سائے تلے بہار کی خوشبو مہکتی ہے اور رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں ایمان کو تازگی بخشتی ہیں تو گھروں، محلوں اور کھلے میدانوں میں ایک مانوس لے سنائی دیتی ہے۔ یہ لے رئوف کی ہے — ایک ایسا روایتی کشمیری لوک رقص جو صدیوں سے اہلِ وادی کے جذبات، عقیدت اور تہذیبی وقار کی ترجمانی کرتا آ رہا ہے۔روف صرف ایک ثقافتی مظاہرہ نہیں بلکہ شکرگزاری، اجتماعیت اور روحانیت کا عملی اظہار ہے۔ موسمِ بہار کی آمد پر جب سخت سردیوں کا اختتام ہوتا ہے اور کھیتوں میں فصل لہلہاتی ہے تو خواتین اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس رقص کے ذریعے اپنی خوشی کا اظہار کرتی ہیں۔ رمضان المبارک میں عبادات اور ذکر و اذکار کے ماحول کے بعد جب عیدالفطر کی خوشیاں طلوع ہوتی ہیں تو یہی روف عید کی مسرتوں کو دوبالا کر دیتا ہے۔رئوف میں خواتین دو قطاروں میں آمنے سامنے کھڑی ہو کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتی ہیں۔ دھیمے اور باوقار انداز میں آگے پیچھے جھومنا، جسم کا ہلکا سا خم، اور قدموں کی باریک ہم آہنگی اس رقص کو منفرد بناتی ہے۔ اس کا خاص قدمی انداز ’’چھکری‘‘کہلاتا ہے جو مہارت اور تال میل کا تقاضا کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق گیتوں کا انداز سوال و جواب پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک صف اشعار کی صورت میں سوال اٹھاتی ہے تو دوسری صف اسی بحر اور آہنگ میں جواب دیتی ہے۔ ان اشعار میں قدرت کی خوبصورتی، محبوب وطن کی تعریف، فصل کی خوشحالی، مذہبی جذبات اور سماجی اقدار کا ذکر ہوتا ہے۔ رمضان کے دنوں میں گائے جانے والے اشعار میں روحانیت اور شکرگزاری کا رنگ نمایاں ہوتا ہے جبکہ عید کے موقع پر خوشی اور اْمید کا پیغام غالب ہوتا ہے۔روف کی دلکشی میں کشمیری لباس کا بھی اہم کردار ہے۔ خواتین رنگین اور کشیدہ کاری سے مزین پھیرن زیب تن کرتی ہیں، سر پر خوبصورت ‘‘کسابہ’’ یا ‘‘ڈیج’’ اوڑھتی ہیں اور روایتی چاندی کے زیورات سے خود کو آراستہ کرتی ہیں۔ یہ منظر نہ صرف ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ وادی کی نسوانی شان و شوکت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ماضی میں یہ رقص بغیر کسی باقاعدہ ساز کے محض اجتماعی آوازوں کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا، تاہم اب ثقافتی تقریبات اور اسٹیج پروگراموں میں روایتی ساز جیسے تمبکناری، رباب اور نوٹ بھی شامل کیے جاتے ہیں، جو اس کے آہنگ کو مزید پراثر بنا دیتے ہیں۔رئوف کی ابتدا اگرچہ کشمیری مسلم معاشرے سے ہوئی، مگر وقت کے ساتھ یہ پوری وادی کی مشترکہ پہچان بن گیا۔ آج یہ رقص مذہب اور طبقے کی حدوں سے بالاتر ہو کر کشمیر کی اجتماعی ثقافتی شناخت کی علامت ہے۔ شادی بیاہ، عرس، عیدین، اور دیگر تہواروں پر روف کی پیشکش اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے۔ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں تیز رفتار زندگی اور بدلتے رجحانات کے باعث روایتی فنون کو چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم تعلیمی ادارے، ثقافتی تنظیمیں اور نوجوان نسل اس ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں روف کی تربیت اور اس کی اسٹیج پیشکش نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کا اہم ذریعہ بن رہی ہے۔روف ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وادی کشمیر کی خوبصورتی صرف اس کی جھیلوں، پہاڑوں اور باغات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لوگوں کی زندہ روایات، روحانی وابستگی اور اجتماعی خوشیوں میں بھی پوشیدہ ہے۔ عید کی نماز کے بعد جب محلوں میں خواتین روف کی قطاریں بناتی ہیں تو یہ منظر نہ صرف خوشی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ صدیوں پرانی تہذیبی روایت کا تسلسل بھی۔یوں رئوف وادی کی دھڑکن، اس کی روحانی فضا اور اس کی ثقافتی شان کا ایسا استعارہ ہے جو ہر بہار، ہر رمضان اور ہر عید پر نئی تازگی کے ساتھ زندہ ہو جاتا ہے۔










