hassn sahoo

عید نوروز کی اہمیت

حسن ساہوؔ

نوروز فارسی لفظ ہے۔جس کے معنی ہیں نیادن ۔نظام فلکی کی گردش کے تحت ایک سال کو بارہ برجوں Celestrial stationsمیں تقسیم کیا گیا ہے۔بارہ مہینوںکی طرح بارہ برج ہوا کرتے ہیں۔تمام برجوں میں سے گزرنے کے لیے آفتاب کو۴/۶۵۱دن لگتے ہیں۔
اس طرح سے نوروزشمسی ہجری سال کا پہلا دن کہلاتا ہے اور فصل بہار کی آمد کا پیغام بردار ہے۔یعنی آفتاب بارہویںبرج حوت سے نکل کر جب برج اول یعنی حمل میں داخل ہوتا ہے۔تو وہ ۲۱/مارچ کا دن ہوتا ہے اور نوروز کہلاتا ہے۔بارہویں سے اول برج میں داخل ہونے کو ـ’’وقت تحویل ‘‘ کہا جاتا ہے۔اس طرح ایران کے شمسی ہجری سال کے باراں مہینے الگ سے مقرر ہیں۔پہلا مہینہ فروردین کہلاتا جو ۳۱/مارچ سے لے کر ۲۰/اپریل تک رہتا ہے۔ایرانی عوام کی زندگی میں نوروز کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔سب سے بڑا قومی تہوار مانا جاتا ہے۔دراصل نورزفصل بہار کا آغاز ہے۔اس عید کو منانے کے لئے تیاریاںپہلے سے کی جاتی ہیں۔اشیاء وملبوسات خاص طور سے خریدے جاتے ہیں۔تمام سرکاری وغیرسرکاری ملازمین کو سمتسی سال کو آحری مہینہ کی تنخواہ اور عیدی کے طور سالانہ بونس اس ماہ کے وسط میں ادا کیا جاتا ہے تاکہ تمام لوگ بلاقوت خریداری کر سکیں۔دو ہفتے پہلے پلیٹوں میںگیہوں کے دانے ڈال کرسبزہ اگایاجاتا ہے۔نوروز تک یہ سبزہ لمبی لمبی بالیوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
نوروز کے دسترخواں کی رسم بھی عجیب ہے۔ایک کمرے میںبڑی سی میز یافرش پر دسترخواں بچھاکر حرف’’س‘‘سے شروع ہونے والی سات کھانے کی چیزیںچُن لی جاتی ہیں۔اسے ’’ہفت سین‘‘کہا جاتا ہے۔طرح طرح کی مٹھائیاں سجائی جاتی ہیں۔عموماََ ۱۳/دنوں تک یہ دسترخوان بچھارہتا ہیں۔نئے سال کے انتظار میںخاندان کے لوگ دسترخوان کے اردگرد بیٹھتے ہیں۔سب کی نظریںگھڑی کی طرف لگی رہتی ہیں۔جسے نظام فلکی کی حرکت کے تحت سورج ۱۲ویں برج سے پہلے برج میںداخل ہوتا ہیںدعا کی صدایںہر طرف گونجنے لگتی ہیں۔
لوگ اپنے اپنے انداز میں نئے سال کا استقبال کرتے ہیںمذہبی لوگ عید نوروز کی مخصوص نمازیں اور دعائیں پڑھتے ہیں۔
عید نوروز کی یہ روایت انتہائی حسین اور دلکش ہے کہ اس کے ذریعے دوستی وقرابت داری کے تعلقات اور روابط زیادہ مستحکم ہوتے ہیں اور ہر طرح کے اختلاف دم سکت پڑجاتے ہیں۲۱ مارچ سے ۱۳دنوں تک دوست ،احسباب ورشتہ دار ایک دوسرے کے گھر ملاقات کی نیت سے جاتے ہیںبغل گیر ہو کر ہر عداوت و کددرت کو دور کرنے کا عہد کرتے ہیں۔
تاریخ کے پس منظر میں نوروز کا جائزہ لینے سےیہ اصلیت سامنے آتی ہے کہ عید نوروز آریائی قوم کے تہواروں میں سے ایک ہے جو عہد قدیم سے اس قوم میں مروج رہے ہیں۔جب اس قوم کے کچھ قبائل اپنے وطن سے جدا ہو کر سر زمین ہندوستان میں وارد ہوئے تو انہوں نے اپنے اعتقاد ات کے مطابق اِس تہوار کو بھی قائم رکھا۔نئے قوم کیبحیثیت سے اپنی تشکیل کی تو نئے ما حول کے تحت کچھ تبدیلیاں کرکے اس عید کو نئے حالات سے ہمکنار کرلیا۔
نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ایران بھی ثقافتی وتمدنی تبدیلی کے ساتھ جشن نوروز میں بعض ترمیمات کی گئیں۔دین اسلام نے جیسےہی ایران میں اثر پیدا کیاتو اس تہوار نے بھی اسلامی صورت اختیار کرلی۔یعنیــ’’ہفتہ سین‘‘قران کریم کا رکھاجانا اورعربی زبان میںوظائف کا ورد کرنا۔
عید نوروز کی فضیلت کے سلسلے میں تحریر کیاگیا ہے کہ ۲۱/مارچ کو آفتاب کا برج حمل میں داخل ہوتے وقت درج ذیل اہم واقعات بھی وقوع پذیر ہوئے ہیں۔
اس روز سورج کو روشنی سے نوازا گیا۔
حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی ۔
حضرت نوح ؑکی نائو کو اسی روز کنارہ مل گیا۔
حضرت ابرہیم ؑنے کعبہ کے بت توڑ دئے۔
حضرت یوسف ؑ کو اسی روز کنویں سے نکالا گیا۔
حضرت موـسـ ؑکو اسی روز کوہ طور پر جلوہ کردِگار نصیب ہوا۔
نارنمرود اسی روز گلزار میں تبدیل ہوا۔
حضرت علی ؑکو غدیر کے میدان میں حضرت محمد مصطفی ؐنے خلعت خلافت سے نوازا اور بارہویں امام مہدیؑ کا ظہور ۲۱/مارچ کو ہی ہوگا۔
بعض لوگ اسے ایران کا تہوار گروانتے ہیں لیکن غدیر خم کے واقع کی مناسب سے شیعہ حضرات عیسیؑ نوروز کو خصوصیت کے ساتھ مناتے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا ہے کہ نوروز کو روزہ رکھا جائے۔نہا کر نئے کپڑے زیب تن کئے جائیں۔نماز ظہر کے بعد چار رکعت نماز سنت پڑھ لیجئے۔
پہلی رکعت میں سورۃ حمد کے بعد دس بارۃاناانزلنا، دوسری رکعت میں سورۃ حمد کے بعد دس بار قل یا ایھاللہ کافرون،تیسرے رکعت میں سورۃ حمد کے بعد دس بار قل ہواللہ احد اور چوتھی رکعت میں سورۃ حمد کے بعد پانچ بار قل اعوذبرب الناس و پانچ بار قل اعوذبرب الفلق۔
آئیے ایسے پُر مسرت موقع پرہم بھی بارگاہ ایزدی میں بعد عجزونیاز یہ دُعا کریں کہ’’اے باری تعالیٰ! موسم وفطرت کے مزاج وفطرت میں مناسب تبدیلی کرکے ہمارے بھی حالات میں استوار پن پیدا کر۔
ہمارے دلوں کو اپنے نور سے منور فرما۔
ہمارے حالات بدسے بد تر ہوتے جارہے ہیں۔
راہبر راوزن بنتے جارہے ہیں، کوئی یاور نہیں، کوئی محسن وغمخوار نہیں۔
قوم کا شیرازہ بکھرچکا ہے۔
تہذیب واخلاق کادامن تار تارہے۔
شرافت وانسانیت منہ چھپائے پھر رہی ہے۔
اے خدا! آپ کا پسند یدہ دین اسلام’’بل من ناصر‘‘ کی آواز بلند کررہا ہے۔
میرے معبود!اپنے آخری شاہکار کو پردہ غیب سے ظاہر کردے تاکہ حیوانیت اور ضلالت کا دور ختم ہو اور انسانیت کی لاج رہ جائے‘‘۔(آمین)