عید سے قبل ہی کشمیر میں گوشت کی کی قیمتیں بڑھادی گئیں

عید سے قبل ہی کشمیر میں گوشت کی کی قیمتیں بڑھادی گئیں

قصاب اور کوٹھدارطبقے کی من مانیاں عروج پر ،انتظامیہ غیر فعال

سرینگر/ ٹی ای این / عید الفطر سے قبل کشمیر کے کئی حصوں میں گوشت مقررہ نرخ سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے، صارفین کا الزام ہے کہ حکام حد کو نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کئی اضلاع کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کئی بازاروں میں گوشت 800 روپے فی کلو گرام تک فروخت ہو رہا ہے۔ سرینگر، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور وادی کے دیگر علاقوں سے اوور چارجنگ کی رپورٹیں منظر عام پر آئی ہیں، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں عید کے قریب آتے ہی قیمتوں میں اضافہ عام ہوگیا ہے۔سری نگر کے ایک رہائشی نے کہاکہ ’’ہم عید کی تیاریوں کے لیے اپنے گھر پر مٹن خریدنے گئے تھے، لیکن دکاندار نے 800 روپے فی کلو کا مطالبہ کیا۔ جب ہم نے مقررہ ریٹ کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ اب ہر جگہ یہی قیمت ہے۔‘‘متعدد صارفین نے الزام لگایا کہ بازار کی باقاعدہ جانچ نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال برقرار ہے۔بانڈی پورہ کے بازاروں میں بھی سرکاری نرخ سے زیادہ گوشت فروخت ہو رہا ہے، اگر مقررہ قیمت 750 روپے ہے، تو ہم 800 روپے دینے پر کیوں مجبور ہیں؟ ۔اسی طرح کی شکایات بارہمولہ کے کچھ حصوں سے بھی موصول ہوئی ہیں، جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ عید الفطر کے موقع پر، جب عام طور پر گوشت کی مانگ بڑھ جاتی ہے، قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ہر سال عید سے پہلے ایسا ہی ہوتا ہے۔ قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور بازاروں میں شاید ہی کوئی چیکنگ ہو۔صارفین کا کہنا ہے کہ 50 روپے فی کلو گرام کا فرق کم دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس سے ان کنبوںپر بوجھ بڑھ جاتا ہے جو پہلے ہی خوراک کی بلند قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔سری نگر کے ایک اور رہائشی نے کہاکہ “عید قریب آ رہی ہے اور لوگوں کو جشن منانے کے لیے گوشت خریدنا پڑتا ہے، لیکن تاجر اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہیں‘‘۔ عیدالفطر، جو رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام کی علامت ہے، چاند نظر آنے پرچندروز میں منائے جانے کی توقع ہے۔