infilation

عید سے قبل مہنگائی کا جن بوتل سے باہر

وادی کشمیر میں عید الفطر سے قبل ہی مہنگائی کا جن بوتل سے ایک بار پھر باہر آچکا ہے ، ناجائز منافع خور مجبور عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ۔ گوشت فی کلو 650روپے اور مرغ 150روپے فروخت کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے جبکہ پنیر والوں نے بھی پنیر فی کلو میں 280روپے کا اضافہ کردیا ہے ۔ ماہ رمضان جہاں اختتام ہورہا ہے اور اب عید محض تین روز بعد ہے جس کا ناجائز منافع خور فائدہ اُٹھارہے ہیں وادی کے اطراف و اکناف سے یہ شکایات موصول ہورہی ہے کہ ناجائز منافع خوری عروج پر ہے ۔ انتظامیہ اور پولیس اگرچہ لاک ڈاون کو عملانے میں مصروف ہے تاہم ناجائز منافع خور اس بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے من مانیوں پر اُتر آئے ہیں ۔ سرکار نے اگرچہ گوشت کی قیمت مخصوص رکھی ہے تاہم قصابوں نے پھر سے گوشت 650روپے فروخت کرنا شروع کردیا ہے ۔ لاک ڈاون کی وجہ سے اکثر مٹن کی دکانیں مقفل پڑی ہے اور جہاں پر دکانیں کھلی ہوئی ہیں وہ 650روپے کے حساب سے گوشت فروخت کررہے ہیں ۔ا قصابوں نے سرکاری نرخناموں کو بالائے طاق رکھا ہوا ہے ۔ادھر مرغ جو شب القدر سے قبل 120روپے فروخت کیا جاتا تھا شب کے اختتام کے ساتھ ہی اس میں اچانک اضافہ کردیا گیا ہے اور آج بازاروں میں بوائلر مرغ 150سے 160روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جارہا ہے ۔ اگرچہ کہیں کہیں پر 130،135اور 140روپے بھی فروخت کیا جارہا ہے لیکن اکثر علاقوں سے اطلاع ملی ہے کہ بوئلر مرغ فی کلو 150سے 160روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے جبکہ ابھی عید الفطر کی تقریب کو 3دن باقی ہے اور اگلے دو دنوں میں اس میں اور زیادہ اضافہ ہونا کا امکان ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ پنیر جو کہ فی کلو 240روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جاتی تھی اب 280روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے ۔ اسی طرح دیگر اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں بھی اچانک اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اس صورتحال پر عوامی حلقوںنے محکمہ فوڈ سپلائز کے ڈائریکٹر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔