عید الاضحی پر قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتوں کامعاملہ

عید الاضحی پر قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتوں کامعاملہ

سرینگر //عید الاضحی پر حسب معمول مسلمان جانور قربان کرتے ہیں اور عید سے قبل اس حوالے ہر جگہ پر منڈیاں لگائی جاتی ہیں اور جانوروں کی خرید وفروخت کا سلسلہ یوم عرفہ تک جاری رہتا ہے لیکن اقتصادی بحرانی صورتحال اور من مانی قیمتوں کی وجہ سے خریداری میں کمی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جموں وکشمیر بالخصوص وادی کے شہرودیہات میں عیدالاضحی کے پیش نظر بھیڑ بکریوں ،گائے بیل کی منڈیاں قائم کی گئی ہیں اور ان منڈیوں میں جانوروں کے گوشت کی سرکاری نرخ ناموں کو بالائے طاق رکھ کر بکروالوں ،کوٹھداروں نے من مانی قیمتیں مقرر کی ہیں ۔بتایا جاتا ہے سرکاری طور زندہ بھیڑ بکریوں کا گوشت فی کلو 265سے 270تک مقرر ہے جبکہ کوٹھکدار اور منڈیوں میں موجود بیوپاری یا بکروال 300سے 330پر فروخت کررہے ہیں جس سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے ۔اس ضمن میں کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے صاحب ثروت لوگوں جن پر قربانی واجب ہے نے بتایا کہ وہ حسب استطاعت قربانی انجام دینے کیلئے ہر سال کی طرح امسال بھی منڈیوں میں جانور لینے کیلئے گئے لیکن وہاں پر سرکاری نرخ نامے کو یکطرف چھوڑ کر من مانی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کی مہاماری اور لاک ڈاون نے اقتصادی طور یہاں کے عوام کو کنگال بنادیا ہے البتہ قربانی کی فضیلت اورفرمان الٰہی کی تابعداری میں وہ جانوروں کی خریداری کیلئے سرگرداں ہیں لیکن منڈیوں میں لوٹ مچائی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کہیں فی کلو50روپے کے قریب یا زائد اضافہ کیا گیا ہے اور جانور کے وزن پر ہزاروں روپے کا اضافہ ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مالی سکت کی ابتر حالت کی وجہ سے وہ خریدنے کی جرات ہی نہیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فوڈ اینڈ سپلائز کے متعلقہ افسران کو ان منڈیوں کی نگرانی و چیکنگ کرنے کی ذمہداری تھی لیکن کہیں کوئی دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ وہ سرکاری نرخ ناموں کیلئے کوٹھکداروں اور بیوپاریوں کو پابند بنانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں ۔ادھر کوٹھکداروں اور منڈیوں میں جانور فروخت کرنے والے بیوپاریوں نے کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرکار ی طور آنکھیں بند کرکے حکم نامے صادر کئے جاتے ہیں اور نرخ نامے مشتہر کئے جاتے ہیں جبکہ ان قیمتوں پر وہ کسی بھی صورت میں جانور فروخت نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ان جانوروں کی قیمتیں خریدنے پر ہی بہت زیادہ ہیں اور انصاف کے ساتھ کمانے کیلئے مارکیٹ میں آجاتے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ وہ نفع کے بجائے نقصان اٹھائیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ ناجائز منافع خوری پر تلے نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے تاکہ وہ بھی حلال طریقے کماسکیں گے ۔