عید الاضحی قریب آتے ہی سرینگر کے عید گاہ میں قربانی کے جانوروں کی منڈی سج گئی

عید الاضحی قریب آتے ہی سرینگر کے عید گاہ میں قربانی کے جانوروں کی منڈی سج گئی

شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آ رہے ہیں

سرینگر // عید الاضحی قریب آتے ہی سرینگر کے عید گاہ میں قربانی کے جانوروں کی منڈی سج جانے کے ساتھ ہی وہاں ان دنوں کافی ہلچل دیکھنے کو ملتے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آ رہے ہیں ۔ سی این آئی سٹی رپورٹر کے مطابق عید لاضحی کی تقریب سعید 07جون کومنائی جا رہی ہے۔ عید قربان کے سلسلے میںجہاں تیاریاں زوروں پر ہے وہیں سرینگر کے عید گاہ علاقے میں قربانی کے جانوروں کی منڈی لگ گئی ہے اور لوگوں کی کافی چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ عید گاہ میں درجنوں تاجروں نے قربانی عید سے قبل قربانی کے لیے بکرے اور بھیڑیں پیش کرنے کے لیے عارضی سٹال لگائے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد بھی علاقے میں پہنچ کر قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف عمل نظر آ رہے ہیں ۔ دن بھر وہاں قربانی کے جانوروں جن میں خاص طو رپر بھیڑ بکریاں شامل ہے کی خر یداری ہو رہی ہے جس سے اس تجارت سے وابستہ افراد بھی کچھ حد تک مطمئن نظر آ رہے ہیں ۔ عید گا ہ میںموجود ایک تاجر نے بات کرتے ہوئے کہا ’’عیدگاہ سرینگر میں جانوروں کی تجارت کا مرکز ہے۔ ہر سال، ہم اچھے کاروبار کی امید میں اپنے مویشیوں کو لاتے ہیں۔ اس بار بھی ہم یہاں آئے ہیں اور اس سال بھی اچھے کاروبار کی امیدیں زیادہ ہیں۔ ‘‘ دیگر تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ جانور مختلف حصوں بشمول جنوبی اور شمالی کشمیر اور وادی کے دیگر حصوں سے منگوائے گئے ہیںتاہم قیمتیں مختلف رہتی ہیں، نسل، وزن اور قد کے لحاظ سے 350 سے 400 روپے فی کلو گرام تک ہوتی ہیں۔ادھر قربانی کے جانوروں کی خریداری کرنے والے افراد نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانور صحت مند نظر آتے ہیں لیکن قیمتیں بہت زیادہ اور مختلف ہے ۔ حبہ کدل سرینگر کے ایک مقامی شہری نے کہا ’’ جانور صحت مند نظر آتے ہیں لیکن قیمتیں بہت زیادہ اور مختلف ہیں۔ میں آج قیمتوں کا سروے کر رہا ہوں۔ میں کل یا شاید ایک دن بعد واپس آؤں گا اور اپنی پسند کا جانور خریدوں گا۔ ‘‘ خاص طور پر، کچھ خریداروں نے بھی واضح شرح کے ضابطے کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر بیچنے والا مختلف قیمت کا حوالہ دیتا ہے۔ ایک اور مقامی شہری نے کہا،’’کوئی معیار نہیں ہے۔ حکام کو کم از کم ریٹ لسٹ لگانی چاہیے‘‘۔ایک باقاعدہ تاجر، غلام نبی نے کہا’’حقیقی بھیڑ پچھلے تین دنوں میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابھی منظر ترتیب دے رہے ہیں۔ آنے والا ہفتہ ہر چیز کا فیصلہ کرے گا‘‘۔