عید الاضحی سے قبل ہی غیر کشمیری گداگروں کی فوج وادی وارد

عید الاضحی سے قبل ہی غیر کشمیری گداگروں کی فوج وادی وارد

سرینگر//کووڈ 19کی لہر میں نرمی کومد نظررکھتے ہوئے عید الاضحی سے قبل ہی غیر ریاستی و مقامی گداگروںنے بازاروں ،سڑکوں ، چوراہوں اور ٹریفک سگنلوں پر قبضہ جمایا ہوا ہے اور ہر آنے جانے والے کے کپڑے پھاڑ کر ان سے پیسے وصول کرتے ہیں جس پر عوامی حلقوں نے سخت تشویش کااظہار کرتے گداگروں کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بھکاریوں کی وجہ سے کووڈ 19زیاہ سے زیادہ پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔نمائندے کے مطابق پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی کووڈ 19کی دوسری لہر اب قابو میں ہے اور اب روزانہ گنے چنے مثبت معاملات ہی سامنے آرہے ہیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں سرکار اس کوشش میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیاح وادی سیر کیلئے آئیں تاہم اس وقت اگر دیکھا جائے تو سیاحوں کے بجائے بڑی تعداد میں گداگر واردی وارد ہورہے ہیں۔اور اب وادی میں بیرون ریاست کے گداگروں کی فوج نے ڈھیرہ جمایا ہے جس دوران گداگروں نے مساجد،آستانوں ، چوراہوں سڑکوں ، بازاروں اور ٹریفک سگنلوں پر قبضہ کرکے وہاں سے ہر گزرنے والے کے کپڑوں کو پکڑ کر پیسے دینے پر مجبور کرتے ہیں ۔ غیر کشمیری اور مقامی گداگروں کی بڑھتی تعداد سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ مختلف اضلاع سے سی این آئی نمائندوں سے اس حوالے سے کہا ہے کہ وادی کے تمام اضلاع میں غیر مقامی گداگروں کی بڑی تعداد نظر آرہی ہے جو بھیک مانگنے کے بہانے لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے ہیں اور گھر خالی ہونے پر وہاں قیمتی سامان اُڑاکر لے جاتے ہیں ۔ خاص کر وادی کے دور دراز علاقوں کے گائوں و دیہات میں جہاں دن میں صرف خواتین اور بچے گھروں میں ہوتے ہیں غیر ریاستی گداگر بھیک مانگنے کے بہانے آتے ہیں جس کی وجہ سے گھروں میں موجود خواتین و بچے ذہنی کوفت کے شکار ہوتے ہیں اور انہیں ان گداگروں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے جس کی بناء پر وہ انہیں بغیر کچھ دیئے واپس بھیج دیتی ہے ۔ اس دوران جنوبی کشمیر سے نمائندے نے کہا کہ جنوبی کشمیر میں گذشتہ کئی دنوں کے دوران کئی واقعات پیش آئے جن میں گداگروں نے مکانوں میں گھس کر وہاں سے قیمتی چیزیں چرالی ہے ۔ غیر ریاستی گداگر بازاروں میں لوگوں کو گھیر لیتے ہیں اور ان کے کپڑے پکڑ کر بھیک دینے پر مجبور کرتے ہیں ۔ جبکہ خواتین اکثران گداگروں کے چنگل سے نکلنے کیلئے انہیں مجبوری کی حالت میں بھیک دیتی ہیں ۔ بازاروں کے علاوہ گداگر اہم چوراہوں ، مساجد و آستانوں کے باہر ڈھیرہ جمائے بیٹھتے ہیں اس کیساتھ ساتھ ہسپتالوں میں بھی گداگروں کی بڑی تعداد اب نظر آرہی ہے۔ گداگروں نے ٹریفک سگنلوں کو بھی اپنا ٹھکانہ بنایا ہے جونہی لال سگنل چالو ہونے سے گاڑیاں کھڑی ہوجاتی ہے تو گداگر ان گاڑیوں میں بیٹھے افراد کو بھیک کے نام پر تنگ کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس صورتحال پرعوامی حلقوں نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ گداگروں کے لباس میں باہر سے جرائم پیشہ افراد بھی وادی وارد ہوجاتے ہیں جو یہاں مختلف قسم کے جرائم انجام دیتے ہیں ۔ عوامی حلقوں نے وادی میں گداگروں کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات اُٹھانے کی مانگ کی ہے ۔