عید الاضحی۔۔۔ایک جائزہ

حسن ساہوؔ

ائے اولاد آدم ؑ وابراہیم ؑ
یہ بھیڑ بکریاں اِکھٹا کرکے کیوں پھر رہی ہو؟
کیا اِن کا خون بہانے سے قربانی کا فرض پورا ہوجائے گا؟
کیا اللہ تعالیٰ کو جانوروں کے خون اور گوشت پوست کی ضرورت ہے؟
کیا حق تعالیٰ ان چیزوں کا محتاج ہے؟
سوچئے اور یاد کیجئے اس واقع کو جس کی یاد میں آپ ہر سال خوشیاں مناتے ہیں ۔سیدنا ابراہیم ؑ کو اِس دُنیا میں کتنے امتحان دینے پڑے۔ کتنی قربانیاں پیش کرنی پڑیں۔اثار وخلوص کے کتنے مظاہرے کرنے پڑئے؟
ذرا بیڑ یا بکرئے کو قربانی کیلئے زمین پرلیٹانے سے قبل چند لمحات کیلئے اس کا تصوربھی کیجئے۔ پھر اس پر چُھری چلائے۔
اللہ اللہ ایک جانب وقت کی تمام طاغوتی طاقتوں اور تمام لائو ولشکر کے ساتھ خدائی کا دعویدار نمرود اس کا دُنیاوی جاہ وجلال ہے اور دوسری جانب حضرت ابراہیم ؑ دل میں نور ایمانی اور سر میں خدائے واحد کی محبت کا جنون لئے جانِ عزیز کا امتحان ہے۔ ایک طرف نار نمرود اور دوسری طرف دُنیا کی تمام راحتین ۔الغرض اگ میں پھینکے جاتے ہیں۔
حضرت جبریل ؑ اپنی اعانت پیش کرنے آتے ہیںاور یوں فرماتے ہیں۔
’’مجھے آپ کی مدد درکار نہیں ۔میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ جو اس کردگار کو منظور ہوگا۔مجھے منظور ہے۔ میں فقط اس کی مرضی کا پابند ہوں۔‘‘
گویا اپنے آپ کو خلیل اللہ خدائے برتر کے بھروسے چھوڑ دیتا ہے۔ تو نار نمرود گلزار ابراہیم ؑ میں بدل جاتی ہے۔اِسی پر بس نہیں۔
پھر مُلک سے نکالے جاتے ہی آپ ؑ تمام اثاثہ واسباب اللہ کی راہ میں چھوڑ کر مصروشام کی راہ سے مکہ معظمہ آجاتے ہیں۔
مال کی قربانی کے بعد اولاد کی قربانی کی منزل آتی ہے۔
نوئے برس میں بوڑھا باپ اپنی زندگی کے واحد سُہارے ،نورعین، لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے لیٹا کر اس کے گلے میں چھری پھیرتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو خواب میں پروردگار کی طرف سے اسی باپت بشارت ملی تھی۔ البتہ اسماعیل ؑکی جگہ بھیڑ ذبح ہوتا ہے۔
الغرض قربانی اور امتحان کی تمام منزلیں ختم ہوجاتی ہیں۔ بارگاہ خداوندی سے بیٹے اور باپ دونوں کو ابدل آباد تک کی ناموری اور نام لینے والی نسل کی دولت سے سرفراز کیا جاتا ہے۔
اِنسانوں کے سرتاج وسردار پیغمبر آخر زماں حضرت محمد ﷺ کی حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں پیدا کیا جاتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم ؑ کی دین کو عمر دوام عطا کی جاتی ہے۔
اس کے برعکس ہم نے فقط جانوروں کی قربانی دینے کو قربانی کی معراج ومعیار جان کیا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے درحقیقت اللہ کی راہ میں مال دیتے ہیں اور نہ جان پیش کرتے ہیں۔
بیوی بچوں کی قربانی تو دور رہی ہم آپسی اتحاد واخوت تک کو دائو پر لگانے کی حماقت کررہے ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ وحضرت محمدﷺ کے نام لیوا ئوںیہ عید درآصل ایک امتحان ہے ۔ تمہارے ایمان کا یہ ایک آزمائش ہے۔ اِس آزمائش میں پورا اُترو۔
کیا کریں ستم ظریفی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ ایک آدم ؑ کی اولاد اور نسل حضرت ابراہیم ؑ مختلف گروہوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔
افسوس کے ساتھ ضبط تحریر لانا پڑرہا ہے کہ خدائی احکامات قلع نظر زمانہ حاضر یہ کلمہ گو حضرات یک جہتی واتحاد کی ڈگر پر گامزن ہونے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔
ہم طرح طرح کی کوتاہیوں وکمزوریوں کا ہدف بنے دین اسلام کے زرین وبے مثال اصولوں کی زک پہنچانے کی فکر میں لگے ہیں۔ دور حاضر کے مسلمان ایک دوسرے سے اخوت محبت اور رواداری سے پیش نہیں آتے بلکہ مشرق ومغرب کے سامراجی قوتوں کے کہنے میں آکر ہم ایک دوسرے سے دست وگریباں رہتے ہیں ۔ یہ صورت حال ایک المیہ سے کم نہیں۔
کاش ہم اپنے اِنفرادی مفادات سے قطع نظر یگانگت واتحاد کا مظاہرہ ہر منزل پر کرتے تو یقینا یہ دُنیا اسلام دشمنی قوتوں سے پاک وصاف ہوجاتی اور ہمارے قبلہ اول بیت المقدس غیروں کے تسلط میں نہ رہتا۔
آئو اس عید قربان پر ہم سب کلمہ گو بلا تمیز مسلک وگرہو عہد کریں کہ سامراجی قوتوں کے ہاتھوں کھلونا نہ بنتے ہوئے سچے معنوں میں اسلام کے شعدائی بنے گے۔ دین اسلام کا پرچم بلند رکھنے کی خاطر ہم اپنی جان عزیز داو پر لگانے میں ہچکچاہٹ سے کام نہ لینگے۔ کاش ایسا ہو۔ !