سرینگر//عیدالاضحی مسلمانان عالم کیلئے عظیم دن ہے اور اس دن برگذیدہ پیغمبرحضرت ابراھیمؑ اور ان کے صالح فرزندحضرت اسماعیل ؑ کی قربانیاں یاد کی جاتی ہے اور ان قربانیوں سے ہمیں جہاں سنت کی ادائیگی کاموقعہ فراہم ہوجاتا ہے وہیں یہ دن ہمیں ان افراد کی طرف توجہ دلاتا ہے جومحتاج اور بے بس ہیں جو دوسروںکے مدد کو ترستے رہتے ہیں ۔ان کی مدد کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ ان مفلوک الحال لوگوں کی بھی عید ہے قربانیوں کا رواج برقرار ہے لیکن پرہیزگاری کے تصورات ہم سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔نام ونمائش کا ہر طرف چلن ہے ۔گراں بازاری اور ناجائز منافع خوری کا جال بچھایا گیا ۔ایک طرف عالمگیر وبائی بیماری کورونا وائرس نے لوگوں کو اقتصادی بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے دوسری جانب اشیائے خور دنی اور دوسرے ضروری سامان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور لوگ مہنگے داموں خریداری کرنے سے قاصر ہیں۔عید کے مبارک موقعہ پر دو تین روز قبل بازاروں میں اتنا رش رہتا تھا کہ پائوں ڈالنے کی بھی گنجائش نہیں رہتی تھی لیکن آج کی عید پر کوئی چراچا نہیں ہے ۔اگر چہ لوگ بازاروں اور گلی کوچوں سے گذرتے ہیں لیکن وہ صرف حسب معمول ہے ۔حالانکہ یہ روایت یہاں دہائیوں پرانی ہے کہ دیہی علاقوں کے لوگ شہری و قصبہ جات کے بازاروں میں آتے ہی جم کر خریداری کرتے تھے اور جو لوگ اپنی ملازمت ،مزدوری یا مخصوص کام کیلئے بھی بازار سے گذرتے تھے تو کوئی نہ کوئی چیز خرید کر گھر لے جاتے تھے لیکن جب آج کل بیشتر افراد مشکل سے کرایہ حاصل کرکے اپنے کام پر پہنچتے ہیں تو ان سے خریداری کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کے نمائندوں نے آمد عید کے سلسلے میں کئی شہری اور قصبہ جات کے بازاروں کا مشاہد کیا تو ان کے موصولہ تفصیلات کے مطابق آمد عید کے موقعہ پر بازاروں میں جو گہماگہمی ہوتی تھی وہ بالکل محدود ہوچکی ہے ۔کئی تاجروں بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ خریداروں کی راہیں تکتے ہیں اور دکان پر خریدار چکائو دکائو کے بغیر کچھ نہیں کرتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کورونالاک ڈاون کی وجہ سے ان کی حالت ابتر ہوئی ہے اور اب عید آنے پر کچھ کماکر اس نقصان کی کسی حد بھرپائی کرسکتے ہیں لیکن ان کی امیدوں پر اس وقت پانی پھیر گیا جب اس مبارک موقعہ پر بھی خریداری محدود ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ جو تاجران چند دنوں کے دوران اوسطًہ یومیہ ہزاروں روپے کی خریداری کرتا تھا وہ سینکڑوں بھی نہیں پاتے ہیں ۔اس دوران کئی راہگیروں سے بات کی جو دکانوں کی جانب بڑھ رہے تھے سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ان کی مالی ابتر حالت ہونے کے باعث وہ خریداری کرنے سے قاصر ہیں ۔اس دوران کئی بازاروں میں کسی حد تک خریداری دیکھنے کو ملی لیکن خریداری بیچ مہنگے داموں ملبوسات یا دیگر اشیاء لینے میں خریدارڈر محسوس کررہے تھے جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے پاس بجٹ محدود ہے ۔اس طرح مجموعی صورتحال بہتر نہیں ہیں ۔اس پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اقتصادی بحالی کیلئے ایسے اقدام اٹھائے جائیںجس سے لوگ آئندہ کی زندگی دوبارہ سنوارسکیں گے ۔










