عیدالاضحی :قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ابھی مقرر نہیں

عیدالاضحی :قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ابھی مقرر نہیں

سرینگر//عید الاضحی کی تقریب سید میں اب 15دن باقی رہ گئے کروناوائرس کی وبائی بیماری کے پیش نظر قربانی کے جانوروں کی منڈیا قائم ہونے کے امکانات بہت کم دکھائے دے رہے ہے تاہم سرکارکی جانب سے ابھی تک قر بانی کے جانوروں کانرخ مقررکرنے کے لئے کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جبکہ شہرسری نگر کے بیشترعلاقوں میں مویشی پالنے والوں نے جوقربانی کے جانوروں کانرخ مقررکیاہے وہ آسمان کے باتیں کررہاہے جس پرعوامی حلقوں نے حیرانگی کابھی اظہار کرتے ہوئے کاکہاکہ سرکار کویہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ قربانی کے جانورفروخت کرنے کی آڑ میں کسی کولوٹ کھسوٹ مچانے کی اجازت نہ دی جائے ۔اے پی آ ئی کے مطابق عیدالاضحی 21جولائی کو منائی جارہی ہے اوراس تقریب سید میں اب صرف 15دن باقی رہ گئے اگرچہ معاشی اور اقتصادی بدحالی کے باعث بازاروں میں کہی چہل پہل نظر نہیں آ رہی ہے اور لوگوں کی قوت خرید بھی جواب دے چکی ہے بڑی مشکل سے لوگ ضرورتوں کوپوراکرہے ہے تاہم صاحب حیثیت لوگ بھی اس وادی گلپوش میں رہتے ہے جوعیدالاضحی کے موقعے پرقربانی کافریضہ انجام دیناچاہتے ہے تاہم کروناوائرس کی وبائی بیماری کے پیش نظر قربانی کے جانور فروخت کرنے کے لئے منڈیاں قا ئم ہونے کے امکانات بہت کم ہے یہ بھی بتایاجارہاہے کہ عیدالاضحی کے ایک ہفتے پہلے بڑے شہروں قصبوں میں منڈیاں بھی قائم ہوسکتی ہے اور خواہشمند قربانی کے جانورخریدنے کی کوشش کرینگے قربانی کے جانورو کانرخ ہرسال سرکار مقرر کرتی ہے تاکہ ناجائز منافہ خوری کے روح جان کوختم کیاجاسکے اور کسی کومن مانی کی اجازت نہیں دی جائے ابھی تک قربانی کے جانوروں کانرخ سرکار نے مقررکیا ہے اورنہ ہی ا سی ضرور ت محسوس کی جارہی ہے جس پرعوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ سرکارکوچاہئے کہ جلد سے جلد قربانی کے جانوروں کونرخ مقررکرے تاکہ خواہشمند افراد کومشکلوں کاسامنانا کرناپڑے اورنہ ہی کسی کومن مانی کی اجازت ہوگی ۔عوامی حلقوں کے مطابق درپردہ مویشی پالنے والوں نے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان تک پہنچادی ہے اورجومن مانی کاسلسلہ شروع کیاہے اس سے لوگ قربانی کرنے سے بھی قاصررہتے ہے لوگوں نے مطالبہ کیاکہ قوائدوضوابط کے تحت مویشی پالنے والوں کومنڈیاں قا ئم کرنے کی اجازت دی جائے اور قربانی کے جانوروں کی قیمت مقررکی جائے تاکہ کسی کوناجائزمنافہ خوروں کے ہاتھوں اضافی رقم ادانہ کرنا پڑے ۔