سر ی نگر//جموں اِنجینئر نگ گریجویٹ اَکھنور علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان نے حال ہی میں ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز ‘‘ میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی جانب سے اَپنے شہر کو ایک سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کے حوالے سے اُن کی قیمتی تجاویز کو سراہا۔ شبھم ڈوگرہ نے کہا کہ ’’ عوام کی آواز ‘‘ پروگرام کے چوتھے قسط کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے اُن کے نام کا ذکر کرنا اُن کے لئے حیران کن تھا۔اُنہوں نے کہا کہ وہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ اُن کی تجاویز کیا جائے گااِنتظامیہ کو اِنتہائی قبول اور حوصلہ اَفزا پایا۔لیفٹیننٹ گورنر نے عوامی رَسائی پروگرام’’ عوام کی آواز‘‘ کے چوتھے قسط میں اُن کا نام سننے پر شبھم نے ردِّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ،’’ اس سے اُمید ہے کہ عام لوگوں کی آواز ارباب اقتدار تک پہنچ جائے گی، ہر تجویز کی قدر کی جائے گی اور اِس سمت میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔شبھم اِس بات پر قائم ہے کہ اکھنورکو ورثے والے شہر کے طور پر ترقی دی جاسکتی ہے جس کی تاریخ مہابھارت کے زمانے کی ہے۔اُنہوں نے تجویزکی کہ جیوپوٹا گھاٹ پر کارونیشن کی تعمیر اکھنور قلعہ اور پرشورام مندر کے راستے سے قدیم پانڈو گپھا جو کہ گوردوارہ بابا سندر سنگھ کی طرف جاکر ہڑپہ بدھ سائٹ پر ختم ہوتا ہے۔اُنہوں نے حکومت سے قلعے کی اندر اور باہر سے تزئین و آرائش کی جائے ، گھاٹوں کی دیدۂ ذیبی ، لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو کی تنصیب ، واک وے اور بائی پاس روڈ جیو پوٹا گھاٹ سے ہڑپہ سائٹ تک کرنے کا مطالبہ کیا۔شبھم نے آبی کھیلوں کی ترقی کے لئے بھی کہا ہے اور بچوں کے لئے آبی اور تفریحی پارک بھی متعارف کیا جاسکتا ہے ۔وہ اِس علاقے کے دیگر سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کے لئے ویشنودیوی شرائن کے سیاحتی اِمکانات کو تلاش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔شبھم نے کہا کہ اس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے، مقامی معیشت کو فروغ دینے اور منشیات کی لت کے مسئلے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔










