awam ki awaz

عوام کی آواز میں منوج سنہا نے بارہمولہ کے نوجوانوں کی تجاویز کو سراہا

جموں//کریری بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے محمد لطیف اس بات پر خوش ہیں کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے یو ٹیوب چینل شروع کرنے کے ان کے خیالات کو ایل جی نے اپنے حالیہ ریڈیو پروگرام عوام کی آواز کے دوران سراہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ واقعی میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ لفٹینٹ گورنر نے میری تجاویز پر غور کیا ۔ اس سے مجھ جیسے عام آدمی کو احساس ہوتا ہے کہ حکومت کتنی قابلِ رسائی ہے ۔ ‘‘ مسٹر لطیف پیشے کے لحاظ سے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فی الحال دہلی میں انڈین آئیل کارپوریشن میں کام کر رہے ہیں وہ ان نتائج کے بارے میں بہت پُر امید ہیں جو یہ آؤٹ ریچ پروگرام حاصل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ کچھ بھی شئیر کر سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ لوگوں کی تجاویز پر کھل کر نظام میں بہتری لانے کیلئے تیار ہیں ۔ ‘‘ اس سے قبل انہوں نے محکمہ تعلیم کا یو ٹیوب چینل رکھنے کا مشورہ دیا تھا جس میں یو ٹی کے تمام طلباء کیلئے مواد کی فراہمی کو تقویت ملتی ہے ۔ مسٹر لطیف نے مزید کہا کہ کووڈ 19 نے تباہی پھیلائی ہے اور تعلیم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جس سے طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے تا ہم اس وقت نے نئے مواقع فراہم کئے ہیں جن میں آن لائین تعلیم ان میں نمایاں ہے ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ محکمہ تعلیم کو ایک آفیشل یو ٹیوب چینل بنانا چاہئیے تا کہ وبائی امراض کے دوران طلباء خود کو خطرے میں ڈالے بغیر تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں ۔ تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس چینل کے معاملات کو دیکھنے کیلئے ایک مخصوص سیل بنایا جائے جس پر تمام کلاسز کیلئے مکمل کورسز اپ لوڈ کئے جائیں ۔ اس کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ چینل حکومت کے پے رول پر اساتذہ کی خدمات کا بہتر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ گذشتہ ضائع شدہ وقت کو بھی پورا کرے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چینل زیادہ ناظرین پیدا کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ریونیو حاصل ہو گا جس کا استعمال اساتذہ کی حوصلہ افزائی کیلئے کیا جا سکتا ہے ۔ اس کی افادیت کو بڑھانے کیلئے اس نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ ماہر فیکلٹی /صنعت کے ماہرین کو زیادہ ناظرین اور مشغولیت کے لئے اعزازی بنیادوں پر بھرتی کرے ۔ مسٹر لطیف کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے ساتھی پیشہ وروں کے ساتھ مل کر یہ اقدام شروع کیا تھا جس میں فی الحال 40000 طلباء کے سبسکرائبر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ تعلیمی اور مسابقتی امتحانی کورسز کا احاطہ کر رہے ہیں جیسے کہ جے کے ایس ایس بی اور جے کے بوس کے ذریعے کرائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ اقدام کرتی ہے تو تمام کورسز کا احاطہ پوری طلبہ برادری کی بھلائی کیلئے کیا جا سکتا ہے اگر اس کی طرف سے ضرورت ہو تو وہ محکمہ کی ہر طرح کی مدد فراہم کریں گے ۔