سری نگر//ریڈیو پروگرام’’ عوام کی آواز‘‘ کا چوتھا قسط جموں وکشمیر یوٹی میں آل اِنڈیا ریڈیو سٹیشنوں کے تمام مقامی اور پرائمری چینلوں پر نشر ہوا ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کرگل وِجے دیوس کے سلسلے میں سیکورٹی فورسز کے بہادر فوجیوں اور شہدأ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔اُنہوں نے کہا کہ میں مادر وطن کے دفاع میں تمام بہادروں ، اُن کی بہادری اور عظیم قربانی اور اُن کے اہل خانہ کی ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ آج ترنگا فخر سے لہرا رہا ہے اور جموںوکشمیر ہمارے فوجیوں کی بہادری کی وجہ سے ترقی کے ایک نئے دُور میں داخل ہو رہا ہے۔ ’’ عوام کی آواز‘‘ ریڈیو پروگرام کا آج کا قسط جموںوکشمیر یوٹی کے کاروباری شخصیت اور حکومت کی مجموعی ترقیاتی ایجنڈا ہے ۔ جو ان کے لئے بہت سارے مواقع پیدا کرنے ، پالیسیاں وضع کرنے اور ان خوابوں کی تکمیل کی سہولیات میں اصلاحات لانے پر مبنی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر کے نوجوان فطری طور پر قابل اور باصلاحیت ہیں اور اِنتظامیہ انہیں صحیح پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے پُر عزم ہے ۔اِس سلسلے میں بہت سے تاریخی فیصلے لئے گئے ہیں جن میں آئندہ ہفتوں میں یوٹی کی تمام پنچایتوں میں یوتھ کلبوں کا قیام شامل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 25,000 نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مختلف ثقافتی ، کھیلوں ، ہنروں کی نشو و نما اور کمیونٹی پروگراموں سے منسلک ہوں گے ۔ جموں و کشمیر سپورٹس کونسل ہر روز کم سے کم چار سے پانچ کھیلوں کا اِنعقاد کر رہی ہے اور نوجوانوں کی کامیابی کی داستانوں کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ ان اِقدامات کو سوشل میڈیا پر بے حد سراہا گیا ہے اور نوجوانوں کی مصروفیات اور روزگار کے میدان میں ایک نیا انقلاب آئے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو سول سروسز اور دیگر امتحانات کی کوچنگ مہیا کرنے کے لئے یوٹی حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی ’’ پرواز‘‘ سکیم پر بھی بات کی اور اِس بات کا اعادہ کیا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہمارے بچوں کو بہترین کوچنگ سہولیات فراہم کی جائیں کیوں کہ تعلیم کے میدان میں ترقی ہورہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’ مشن یوتھ ‘‘ کے تحت اِنتظامیہ نے 400 ڈینٹل سرجنوں کو اَپنے کلینک شروع کرنے کے لئے مالی اِمداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اِس پروگرام میں 800 پیرا میڈیکس کو بھی شامل کیا جارہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بمبئی سٹاک ایکسچینج کے ساتھ مل کر نوجوانوں کے لئے مالی خدمات کی ایک 360 ڈگری تربیت کے مقصدسے 5,000 نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے گزشتہ ایک ماہ میںزائد اَز 6,000 تجاویز حاصل کرنے پر کہا کہ لوگوں نے مختلف موضوعات پر اَپنے خیالات کا اِظہار کیا ہے اور عوامی شراکت کے ساتھ کام کرنے کے لئے حکومت کی وابستگی کو مستحکم کیا ہے ۔اس طرح ’جن بھاگیداری ‘کو تقویت ملی ہے جو ترقیاتی ایجنڈے کا سنگ بنیاد ہے۔تعلیمی شعبے میں اِصلاحات سے متعلق مشوروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تمام تجاویز بہت دلچسپ ہیں اور ان کے دور رَس اَثرات مرتب ہوں گے ۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ اِنتظامیہ جامع نقطہ نظر کے ساتھ تعلیم کے میدان میں ترقیاتی تبدیلیاں کرنے کے لئے پوری طرح پُرعزم ہے۔اُنہوں نے کچھ بہترین کارکردگی ظاہر کرنے والوں کا بھی ذکر کیا جن میں بڈگام کے عرفان احمد بٹ کے ایک فرد نے رورل ڈیولپمنٹ کو بطور مضمون ہائیرسکینڈری اِنسٹی چیوٹ اور ڈگری کالجوں میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔بڈگام سے تعلق رکھنے والے محمد محسن ، سری نگر سے صبیہ معراج ، سیّد احمد ، بڈگام کے جاوید میر ، ڈوڈہ کے نریندر سوامی ، امیت اور کولگام کے عابدہ حسن نے تعلیمی شعبے اور پیشہ ورانہ تربیت کے مختلف جدید اِقدامات کی تجویز پیش کی۔اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ساتھ جموںوکشمیر اِنتظامیہ بھی نئی تعلیمی پالیسی پر کام کر رہی ہے اور ایسے تمام روزگار پر مبنی اور شخصیت سازی والے مضامین نصاب میں شامل کئے جائیں گے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم اعلیٰ تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بھی اِصلاحات لا رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے تائیکونڈو میں ملک کے لئے سونے کا تمغہ جیتنے پر بانڈی پورہ کے مشہور ایتھلیٹ شیخ عدنان فیاض کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابیوں پر پورا ملک فخر کر رہا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر مختلف کھیلوں میں 17 قومی مقابلوں کا انعقاد کرنے جارہا ہے جس میں تمام ریاستوں اور یوٹیوں کے تقریبا ً12,000 کھلاڑی حصہ لیں گے۔پونچھ سے جاوید اِقبال نے سیزنل اساتذہ کا معاملہ اُجاگر کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’ محکمہ تعلیم باقی چھ ماہ تک بچوں کے سیکھنے کے نتائج میں اضافے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار رکر رہا ہے اور میں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ جلد ہی اِس پر فیصلہ لیا جائے گا۔‘‘ محکمہ سکولی تعلیم کی کامیابی پر خوشی کا اِظہار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے80,600 پرائمری سکول ٹیچرس پہلے نمبر پر ہے جو آن لائن طریقۂ کار سے پرائمری اساتذہ کے لئے تربیتی پروگرام ’’ نشٹھا‘‘ کے تحت ترقی یافتہ ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اَساتذہ کے مابین بااختیار بنانے کا احساس پیدا کرنے کے علاوہ مختلف سطحوں پر اساتذہ کی ایجوکیشنل ریفارم کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ لیاگیا ہے۔اُنہوں نے یوٹی میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے رُکاوٹوں پر کہا کہ متعلقہ محکمے شہروں اور دیہات کی صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور عام لوگوں کی شکایات کو فوری ازالہ کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ کے دوران جموں و کشمیر میں کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے اور ان کو معاشرتی اور مالی طور پر بااِختیار بنانے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے نظرئیے اور رہنمائی کے مطابق بہت سے اہم فیصلے لئے گئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت 30,000 کسانوں کو 65کروڑ روپے مالیت کا جدید ترین زرعی سامان اور 91کروڑ روپے کی لاگت سے 25,000 کسانوں کو آبپاشی کی جدید سہولیت بھی مہیا کر رہی ہے۔جموں کے رشپال سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ اُنہوں نے روایتی فصلوں کے بجائے رواں سال سٹرابیری اُگانے کا فیصلہ کیا جس سے ان کی آمدنی میں 40گنا اِضافہ ہوا ہے ۔ اِسی طرح پہلی بار سری نگر سے چیئری دوبئی برآمد کی گئیںجس نے اَب کاشت کاروں کو فصل کی بین الاقوامی منڈی مہیا کی ہے۔جزوی اَن لاک عمل میں اُٹھائے گئے اِقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ وَبائی مرض کو مد نظر رکھتے ہوئے اِنتظامیہ نے فیصلہ لیا ہے کہ ہر داخلی مقام پر آنے والے سیاحو ں کو جانچ کیا جائے گا اور منفی رِپورٹ کے بعد ہی منزل مقصود تک جانے کی اِجازت ہوگی۔اِسی طرح امسال کے لئے سالانہ شری اَمرناتھ جی یاترا منسوخ کی گئی ہے اور شردھالوئوں کے لئے آئس لنگم کی پوجا کرنے اور بذریعہ ورچیول موڈ کے ذریعے پرساد حاصل کرنے کا اِنتظام کیا گیا ہے۔صوبہ جموں کے اب تک غیرآب علاقوں میں ایڈونچر اور ورثہ کی سیر و سیاحت کے فروغ اور ترقی کے لئے موصولہ تجاویز پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں سیاحت کو بڑھانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ محکمہ کے افسران سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ جموں ٹورازم سرکٹ کو فروغ دینے کے لئے ضروری کاروائی کریں اور ڈویڑن کے مختلف سیاحتی مقامات پر 3 ماہ طویل جموں مہااُتسو کا اہتمام کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہماری ثقافت اور معاشرے میں ’’ ناری شکتی‘‘ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ خواتین کو طاقت کا مجسم تصور کیا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا’’ خواتین کی موجودگی کے بغیر ان کی معاشرتی اور معاشی آزادی کے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ انتظامیہ جموں وکشمیر میں خواتین کاروباری افراد کا ایکو سسٹم بنانے کے لئے مستقل طور پر اقدامات کررہی ہے۔کورونا پروٹوکول کی پیروی میں کچھ لوگوں کی طرف سے کی جانے والی غفلت اور ناگوار سلوک کا مشاہدہ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے سب کو کورونا کے خلاف احتیاط برتنے کی اپیل کی۔اُنہوں نے کہا،’’میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ برائے مہربانی محتاط رہیں۔ اس وَبا سے نمٹنے کے لئے کووِڈ مناسب طرزِ عمل(سی اے بی) مؤثر ہتھیار ہے ۔ کورونا پروٹوکول پر عمل کرکے آپ نہ صرف اَپنی جان بچا رہے ہیں بلکہ آس پاس کے لوگوں کی زندگیوں کی بھی حفاظت کر رہے ہیں۔پروگرام کے اختتام پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں کو عیدالاضحی کی مبارکباد پیش کی اور انہیں کووِڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحی کا تہوار منانے کی اپیل کی۔










