The Centre must fulfill the promise made to the people of Jammu and Kashmir.

عوامی شمولیت ہی تبدیلی کی کنجی

ووٹ ڈالنا جمہوری عمل میں مؤثر شرکت ہے// عمر عبداللہ

سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے عوامی شمولیت ناگزیر ہے اور اس کا آغاز ووٹ کے استعمال سے ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری عمل میں حصہ لینا صرف انتخاب لڑنے تک محدود نہیں بلکہ ووٹ ڈالنا بھی ایک مؤثر شمولیت ہے۔ممبئی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز میں ایک تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا،‘‘تبدیلی وہی لوگ لا سکتے ہیں جو اس عمل میں حصہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ اور حصہ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ میں امیدوار بنوں، بلکہ یہ بھی حصہ لینا ہے کہ کم از کم میں باہر نکل کر اپنا ووٹ استعمال کروں۔یو این ایس کے مطابق زیر اعلیٰ عمر عبداللہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کر رہے تھے جس میں انہوں نے صحت مند جمہوریت کے لیے ووٹنگ کو ضروری قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ چاہے جموں و کشمیر ہو، مہاراشٹر ہو یا ممبئی، عوام کو ہر جگہ اپنے اپنے مسائل درپیش ہیں اور انتخابات کے نتائج ہی ان مسائل کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔مہاراشٹر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا،‘‘اس بار مہاراشٹر میں سیاسی ماحول کچھ عجیب سا رہا۔ نہ کوئی مستقل دوست رہا، نہ کوئی مستقل دشمن۔ دوست دشمن بن گئے اور دشمن دوست بن گئے۔ اور عجیب و غریب اتحاد سامنے آئے۔انہوں نے مزید کہا،‘‘کہیں کانگریس اور بی جے پی نے ہاتھ ملا لیا، کہیں بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم ساتھ آ گئیں، اور کہیں ایک ہی پارٹی کے دو دھڑے دوبارہ اکٹھے ہو گئے۔ ان تمام باتوں کا انتخابی نتائج پر کیا اثر پڑے گا؟ میں خود بھی بے چینی سے انتظار کر رہا ہوں۔واضح رہے کہ مہاراشٹر میں ممبئی سمیت 28 میونسپل کارپوریشنز کے انتخابات جاری ہیں، جنہیں ریاست کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔