عمر سرکار کی کابینہ کے 9وزاء کو قلمدان تفویض کئے گئے

نائب وزیر اعلیٰ کو آر اینڈ بی ، سکینہ ایتو طبی اور سکولی و اعلیٰ تعلیم ، جاوید ڈار کو زرعی پیداوار ااور جاوید رانا کو جل شکتی و جنگلات کا قلمدان ملا

سرینگر//جموں و کشمیر حکومت نے نو منتخب وزراء کو قلمدان تفویض کر دیے ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ سمیت مختلف وزراء نے 16 اکتوبر کو حلف اٹھایا تھا۔نائب وزیر اعلیٰ کے پاس آر اینڈ بی ، صنعت و تجارت ، سکینہ ایتو کو طبی تعلیم ، سکولی و اعلیٰ تعلیم کے علاوہ سوشل ویلفیئر کا قلمدان سونپا گیا ۔ جاوید رانا کہ جل شکتی ، جنگلات اور ماحولیات ، جاوید ڈار کو زرعی پیداوار اور پنچایتی راج ، ستیش شرما کو فوڈ ، سول سپلائز اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ دیگر اداروں کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کے روز نو منتخب وزراء کے لئے مختلف قلمدان مختص کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان راج بھون سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نئی انتظامیہ میں وزراء کی ذمہ داریوں کا خاکہ پیش کیا ہے۔ان تمام وزراء نے 16 اکتوبر کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوکیشن سینٹر میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں حلف لیا تھا۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری کو پبلک ورکس (آر اینڈ بی)، صنعت و تجارت، کان کنی، محنت اور روزگار، ترقی، اور ہنر مندی کی ترقی کی نگرانی سونپی گئی ہے۔علاوہ ازیں، سکینہ مسعود (ایتو) کو ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن، اسکول ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن اور سوشل ویلفیئر کے قلمدان دیے گئے ہیں۔ جاوید احمد رانا کو جل شکتی، جنگلات، ماحولیات اور قبائلی امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسی طرح، جاوید احمد ڈار کو زرعی پیداوار، دیہی ترقی، پنچایتی راج، کوآپریٹو اور الیکشن کے قلمدان تفویض کیے گئے ہیں۔وزیر ستیش شرما کو فوڈ، سول سپلائیز اور کنزیومر افیئرز، ٹرانسپورٹ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، یوتھ سروسز اور اسپورٹس کے ساتھ اے آر آئی اور ٹریننگ کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔خیال رہے کہ جموں و کشمیر میں 2024 کے انتخابات کے بعد نئی حکومت تشکیل دی گئی ہے۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں این سی (نیشنل کانفرنس) اکثریت حاصل کی۔ عمر عبداللہ نے بھی اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا ہے۔نئی کابینہ کے وزراء کی تقرری کے ساتھ، عوامی امیدیں بڑھ گئی ہیں کہ یہ حکومت مختلف شعبوں میں مؤثر اور ترقیاتی اقدامات اٹھائے گی۔ وزراء کے پاس محکموں کی تفویض کی جانے والی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل کے لئے موثر منصوبے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر میں نئی سرکار ابھی بھی یوٹی کے طور پر ہی کام کررہی ہے اور مرکزی سرکار نے بتایا تھا کہ جموں کشمیر کو انتخابات کے بعد سٹیٹ ہڈ بحال کیا جائے گا البتہ نئی سرکار نے یوٹی کے تحت ہی کام کرنا شروع کیا ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ نومبر مہینے کے آخر تک یا اس سے پہلے ہی ریاست کا درجہ بحال ہوگا۔ اس کے بعد نئی کابینہ میں مزید وزراء شامل ہوسکتے ہیں اور جو اختیارات ابھی سرکار کو نہیں دیئے گئے وہ بھی تفویض ہوں گے کیوں کہ سٹیٹ ہڈ کی بحالی کے بعد یہاں پر ایل جی کے بجائے براہ راست گونر کی تقرری ہونی ہے ۔