جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پبلک اَنڈرٹیکنگز کمیٹی (پی یو سی) کی ایک میٹنگ اسمبلی کمپلیکس میں رُکن اسمبلی علی محمد ساگر کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) سے متعلق جموں و کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن (جے کے پی سی سی) کے آڈِٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں اراکین اسمبلی سیف اللہ میر، بلدیو راج شرما، شکتی راج پریہار، رنبیر سنگھ پٹھانیہ، ڈاکٹر بشیر احمد شاہ ویری، شوکت حسین گنائی، سیف الدین بٹ اور تنویر صادق کے علاوہ سیکرٹریجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی منوج کمار پنڈت بھی موجود تھے۔ میٹنگ میں سی اے جی کی آڈِٹ پیراز نمبر 7.1، 7.2 اور 7.3 سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی سیر حاصل بحث و تمحیص ہوئی جو جموں و کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن (جے کے پی سی سی) سے متعلق ہیں۔اکاؤنٹنٹ جنرل جموں و کشمیر تسوانگ تھرچن نے آڈِٹ پیراز سے متعلق مسائل کو اُجاگر کیاجبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی انیل کمار سنگھا نے کمیٹی کو آڈٹ پیراز میں درج مسائل کے ازالے کے لئے اُٹھائے جا رہے اقدامات کے علاوہ محکمہ کے جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ ڈائریکٹرفائنانس (پی ڈبلیو ڈی) اور منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی سی نے بھی کارپوریشن کی واجبات کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔کمیٹی کے ممبران نے اَپنی قیمتی تجاویز پیش کیں اورمحکمہ کے کام کے علاوہ آڈِٹ پیراز کے حوالے سے اپنے مسائل بھی اُٹھائے۔چیئرمین نے پی ڈبلیو ڈی کے اَفسران پر زور دیا کہ وہ تمام جاری منصوبوں کی تکمیل کے لئے ٹھوس اَقدامات کریں۔ اُنہوں نے شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے پی ایس یوزکے آڈِٹ اور جانچ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا اور متعلقہ محکمہ کو تجویز دی کہ وہ جے کے پی سی سی کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے کے لئے تحریری تفصیلی رپورٹ پیش کرے جس کے بعد آڈِٹ پیراز نمبر 7.1 اور 7.2 کو خارج کیا جائے گا۔میٹنگ میں متعلقہ محکمہ اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔










