عصمت ریزی کے ملزم کو چیف جسٹس کی انوکھی تجویز _ خواتین تنظیموں کی برہمی _ مستعفی ہوجانے جسٹس بوبڈے سے مطالبہ

حیدرآباد _ 4 فروری ( اردولیکس) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شرد بوبڈے کی جانب سے عصمت ریزی کے ملزم کو متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے پر جیل کی سزا نہ دینے کی تجویز پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہے 4 ہزار سے زائد خواتین نے جسٹس بوبڈے سے چیف جسٹس کے عہدہ سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ہے ان خواتین میں سماجی جہدکار اور ویمن رائٹس کے قائدین بھی شامل ہیں بتایا جاتا ہے کہ دو دن قبل چیف جسٹس بوبڈے نے ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم کو ایک لڑکی کی عصمت ریزی کے کیس میں اس بات کی تجویز پیش کی تھی کہ اگر وہ متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے رضامند ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں انھیں جیل بھی نہیں ہوگی اور ملازمت بھی بچ جائے گی۔چیف جسٹس نے اس کیس میں ملزم کو چار ہفتوں تک گرفتار نہیں کرنے کی بھی پولیس کو ہدایت دی۔چیف جسٹس کی اس تجویز کی خواتین تنظیمیں سخت مخالفت کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی یہ تجویز عصمت ریزی کے ملزموں کو حوصلہ افزائی کرے گی۔اور عصمت ریزی کی متاثرہ خواتین کا تحفظ خطرہ میں پڑ جائے گا۔4 ہزار خواتین نے چیف جسٹس بوبڈے کے نام کھلا خط جاری کرتے ہوئے انھیں عہدہ سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا۔