عرب دنیا ایک ’ثقافتی انقلاب‘ کی طرف گامزن

برسلز /ایجنسیز/’ امریکہ اور یورپ میں ثقافتی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہو جانے بعد آرٹ ڈیلرز کی نظریں اب مشرق میں خلیجی ممالک پر ہیں۔ دنیا کے سب سے بااثر اور بڑے بین الاقوامی آرٹ میلوں میں سے ایک آرٹ بازل کی خلیجی خطے میں پہلی نمائش کو عالمی آرٹ ڈیلرز تیل سے مالا مال عرب ممالک میں بڑھتی ہوئی ثقافتی سرمایہ کاری اور ایک نئی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے، جب یورپ اور شمالی امریکہ میں آرٹ کے بیش قیمت فن پاروں کی فروخت سست روی کا شکار ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس ماہ منعقد ہونے والی آرٹ بازل کی نمائش میں نیویارک کی معروف گاگوسین گیلری کے سینئر ڈائریکٹر اندیشہ آوینی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں ’’بے پناہ امکانات‘‘ موجود ہیں اور آرٹ گیلریوں کے لیے نئے خریداروں اور کلکٹرز تک رسائی انتہائی اہم ہے۔ آرٹ بازل اور سوئس بینک یو بی ایس کی جانب سے سن 2025 میں جاری کردہ ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں عالمی آرٹ مارکیٹ میں انتہائی قیمتی فن پاروں کی فروخت 12 فیصد کی کمی کے ساتھ 57.5 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ اس رپورٹ میں غیر یقینی اقتصادی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو فن پاروں کی طلب میں کمی کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا تھا۔