نئی دہلی: اترپردیش کے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کے قتل معاملے میں پولیس کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ گزشتہ روز اسمبلی میں پیش کی گئی جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں پولیس کو اس معاملے میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ عتیق احمد اور اشرف کے قتل کی پولیس کے ذریعہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور پولیس کے لیے اس واقعہ کو روکنا ممکن نہیں تھا۔ پولیس کی طرف سے کسی بھی طرح کی غفلت نہیں بھرتی گئی۔ ریاست اور پولیس مشینری کے درمیان کوئی ملی بھگت نہیں تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس دلیپ بابا صاحب بھونسلے کی قیادت میں کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قتل پولیس کی منصوبہ بند سازش نہیں تھی۔ تحقیقات میں پولیس یا ریاستی مشنری کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت اترپردیش کو پیش کر دی جس کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا گیا۔ عتیق احمد اور اشرف کو 15اپریل 2023کو پولیس حراست میں برسر عام گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ پوری واردات کیمرے میں قید ہے۔ قتل کی واردات صرف نو سکنڈ میں انجام دی گئی اور پولیس کے پاس مداخلت کرنے کا وقت نہیں تھا اور ان کی سکیورٹی کیلئے معمول سے زیادہ ملازمین تعینات کیے گئے تھے۔










