مالی بجٹ 2023-24 ء جموں و کشمیر میں بجلی اور سڑک شعبوں کو تبدیل کرنے کیلئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گا

عا م انسان کولامنتہائی پریشانیوں کاسامنا

رسوئی گیس کے قیمتوں میں فی سیلنڈر 25روپے کااضافہ ہونے کے ساتھ ہی وادی کشمیرکے طول ارض میں کھانے کاتیل اور روزمرہ کااستعمال میں لائی جانے والی ا شیاء کی قیمتیں آسمان کوچھورہی ہے جس پرعوامی حلقوں نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی کسی ریاست میں قیمتوں میں اضافہ نہیں ہورہاہے تووادی کشمیرمیں ایسا کیوں ،سرکار کس مرض کی دوا ہے اس بارے میں عوام کوجانکاری فراہم کی جائے ۔عوامی حلقوں کے مطابق جس تیزی کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے اس نے عام انسان کوزندہ رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن بنادیاہے ۔عوامی حلقوں نے کہاکہ ایک طرف اوئل کمپنیوں نے گھریلیوں استعمال کے گیس سیلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ کردیااور عام انسان کے کاندھوں پر مزیدبوجھ ڈال دیاجس سے اٹھانے کی انہیں سکت ہی نہیں ہے اور ابھی گیس سیلنڈروں کی قیمتوں میں 25روپے اضافہ ہونے کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی کہ وادی کشمیرمیں کھانے کے تیل چائے اور دوسری استعمال میں لائی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق حیرانگی اس بات کی ہے کہ نئی فصل منڈیوں تک پہنچ گئی ہے درآمدادوبر آمددادکاتوازن ابھی پٹری پرنہیں لوٹ رہاہے توقیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیسے ۔عوامی حلقوں نے کہا کہ وادی کشمیرکے طول ارض میں ناجائز منافہ خوری تیز کے ساتھ پھیل رہی ہے ضرور ت کی ہر شئے انسان کی قوت خرید سے باہرہوتی جارہی ہے ۔سرکار کس مرض کی دوا ہے اور قیمتوںکواعتدال پررکھنے کے سلسلے میں سرکار اپنے اختیارات کو بروئے کار کیوں نہیں لارہی ہے یہ ایک غور طلب معاملہ ہے۔ عوام حلقوں کے مطابق کھانے کے تیل کے ٹین اور پانچ لیٹر وزنی ڈبوں پرجونرخ مقررکیاگیاہے کیاسرکار کواس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے کیاپرچیزنگ کمیٹیاں ہول سیل ڈیلروں کمپنیوں اور پرچون دوکانداروں کے رابطے میں نہیں ہے کیاوادی کشمیرمیں قانون پرعمل درآمدختم ہوگیاہے کیاناجائز منافہ خوروں کے سامنے سرکار بے بس ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق اگردیگر معاملات میں سرکار متحرک نظر آتی ہے تو قیمتوںکواعتدال پررکھنے عام انسا ن کوراحت پہنچانے ناجائزمنافہ خوروںکاکافیہ حیات تنگ کرنے کے سلسلے میں سرکار اپنے اختیارات کوبروئے کار کیوں نہیں لارہی ہے ۔عوامی حلقوں نے کہا کہ پرچیزنگ کمیٹیو کی جانب سے جوریٹ لسٹ مرتب کئے جاتے ہے وہ زمینی حقائق کے ساتھ میل نہیں کھاتے ہے اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے عام انسان کے مشکلات و مصائب سرکارکوکہی نظر نہیں آتے ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق روزگارکے تمام مواقعے ٹھپ ہو چکے ہے عام انسا ن کی اوسط آمدانی میں چالیس فیصدی تک کی کمی ا ٓئی ہے اور دوسری جانب مہنگائی نے اسکازندہ رہنامشکل ہی نہیں ناممکن بنادیاہے ،جبکہ سرکار بار بار دعوی ٰکررہی ہے کہ عوام کوراحت پہنچانے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیاجاتاہے حقائق یہی ہے کہ وادی کشمیرمیںعا م انسان لامنتہائی پریشانیوں کاسامناکررہاہے اور صوبائی انتظامیہ زبانی جمع خرچ کے سوا ور کوئی کارروائی عمل میں نہیں لارہا ہے ۔