عالمی کپ 2023 میں آج ہندوستان نے بنگلہ دیش کو 7 وکٹ سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی لگاتار چوتھی جیت حاصل کر لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی ٹیم نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ٹیم کو کمتر نہیں سمجھ رہی اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہوا کہ بنگلہ دیش کے ذریعہ دیے گئے 257 رنوں کے ہدف کو ہندوستانی ٹیم نے 41.3 اوورس میں محض 7 وکٹ کے نقصان پر ہی حاصل کر لیا۔ وراٹ کوہلی کی تعریف کرنی ہوگی جنھوں نے چھکا لگا کر نہ صرف اپنی سنچری مکمل کی بلکہ ہندوستان کو جیت بھی دلا دی۔ آج بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسن شانتو نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا۔ ہندوستانی پیس بیٹری جسپریت بمراہ اور محمد سراج کے سامنے شروعاتی 5 اوورس کو بنگلہ دیشی سلامی بلے بازوں نے بہت سنبھل کر کھیلا اور اس کے بعد جارحانہ بلے بازی شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے 10 اوورس میں بغیر کوئی وکٹ گنوائے 63 رن بنا لیے، جو کہ بنگلہ دیش کے لیے بہترین شروعات کہی جا رہی تھی، لیکن پھر بعد کے اوورس میں ہندوستانی گیندبازوں نے گزشتہ میچوں کی طرح اپنا کمال دکھایا اور نہ صرف وکٹ لیے بلکہ رنوں کی رفتار بھی دھیمی کر دی۔
بنگلہ دیش کی طرف سے دونوں سلامی بلے بازوں تنزید حسن (51 رن) اور لٹن داس (66 رن) نے نصف سنچری بنائی۔ ان کے بعد آنے والے بلے بازوں نے تھوڑا مایوس کیا، حالانکہ نچلے مڈل آرڈر کے بلے باز مشفق الرحیم (38 رن) اور محمود اللہ (46 رن) نے مشکل حالات سے ٹیم کو نکالا اور ایک اچھے اسکور کو یقینی بنایا۔ مذکورہ چار بلے بازوں کے علاوہ سبھی نے مایوس کیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم 50 اوورس میں 8 وکٹ کے نقصان پر 256 رن ہی بنا سکی، جبکہ پونے کے میدان میں دفاع کے لیے کم از کم 300رن بنانا ضروری بتایا جا رہا تھا۔ ہندوستان کی طرف سے کلدیپ یادو نے ایک بار پھر حریف بلے بازوں کو مشکل میں ڈالا۔ انھوں نے سلامی بلے بازوں کی بہترین شراکت داری کو بریک کرنے کے لیے تنزید حسن کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، اور اپنے 10 اوورس میں 47 رن دیے۔ جسپریت بمراہ نے بھی ہمیشہ کی طرح کفایتی گیندبازی کرتے ہوئے 10 اوورس میں 41 رن دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ 2-2 وکٹ محمد سراج (10 اوورس میں 60 رن) اور رویندر جڈیجہ (10 اوورس میں 38 رن) کو ملے۔ ایک وکٹ شاردل ٹھاکر کو بھی ملا جنھوں نے 9 اوورس میں 59 رن خرچ کیے۔
ہندوستان نے جب 257 رنوں کے ہدف کا پیچھا کیا تو روہت شرما نے پھر سے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے کسی بھی گیندباز کو بخشنا ضروری نہیں سمجھا، لیکن ایک گیند کو پُل کرنے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر کیچ آؤٹ ہو گئے اور نصف سنچری سے صرف 2 رن پیچھے ہو گئے۔










