سرینگر// امریکہ کے صدرجو بائیڈن منگل کو اقوام امتحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں توقع ہے کہ وہ عالمی رہنماؤں سے کرونا کی عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے اقدامات کو تیز تر کرنے، آب و ہوا میں رونما ہوتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے پر زور دیں گے۔ مانیٹرنگ کے مطابق صدر بائیڈن ان مسائل کے خلاف عالمی شراکت داری کا متوقع کیس ایسے وقت میں پیش کریں گے جب امریکہ کے اتحادی ممالک اس بات کو جانچ رہے ہیں کہ سابقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں امریکی خارجہ پالیسی میں کہاں تک تبدیلی آئی ہے۔کرونا وائرس کے متعلق تشویش کے پیش نظر صدر بائیڈن اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں محدود وقت گزاریں گے۔وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے پیر کو ملاقات کر رہے ہیں۔ نیویارک میں قیام کے دوران وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن سے ملاقات کریں گے، جبکہ سفارتکاری کے سلسلے میں ان کی دوسری مصروفیات واشنگٹن سے ورچوئل یعنی آن لائن رہیں گی۔بدھ کو بائیڈن کووڈ نائنٹین پر ایک کانفرنس کی میزبانی کریں گے جس کے دوران توقع ہے کہ وہ عالمی رہنماؤں پر زور دیں گے کہ اس مرض سے بچاو کی ویکسین کی تقسیم کے سلسلے میں کے گئے وعدے پورے کریں، آکسیجن کی کمی پوری کریں اور عالمی وبا سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کی کوششیں کریں۔منگل کے روز صدر بائیڈن برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن سے وائٹ ہاوس میں ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں جمعے کو انہوں نے چار ملکوں کے گروپ کواڈ میں شرکت کے لیے آسٹریلیا کے وزیر اعظم موریسن، ہندستان کے وزیر اعظم نریندرمودی، اور جاپان کے وزیر اعظم یوشدی سگا کو مدعو کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکہ کے اتحادی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا صدر بائیڈن نیگزشتہ صدر ٹرمپ کے مقابلے میں اپنی پالیسی کو ان خطوط پر تبدیل کیا ہے، جن کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔سفارتکاری کے اجلاسوں سے پہلے اس ضمن میں بات کرتے ہوئے امریکہ کی سفیر برائے اقوام متحدہ لنڈا تھامس گرین فیلڈ نیکہا، “ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ترجیحات محض امریکی ترجیحات نہیں ہیں بلکہ یہ عالمی ترجیحات ہیں۔”لیکن گزشتہ کئی مہینوں میں صدر بائیڈن کو کچھ اتحادی ممالک سے اہم مسائل پر اختلافات کا بھی سامنا رہا ہے۔










