عالمی مالیاتی ادارہ بھارت کو عالمی اقتصادی ترقی کا انجن قرار دے چکا ہے

بھارت میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل عالمی سرمایہ کاروں کیلئے ایک پرکشش منزل// وزیر اعظم

سرینگر/یو این ایس// وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ بھارت کو عالمی اقتصادی ترقی کا انجن قرار دے چکا ہے، جبکہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں ایس اینڈ پی اور فچ نے بھی بھارت کی معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور ترقی کی رفتار کو سراہا ہے۔راجکوٹ، گجرات میں منعقدہ وائبریںٹ گجرات ریجنل کانفرنس (سوراشٹر،کچھ خطہ) سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا کی بڑی معاشی طاقتیں اور ادارے بھارت کے مستقبل کو روشن دیکھ رہی ہیں اور عالمی سرمایہ کار بھارت پر اعتماد کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا’’آئی ایم ایف بھارت کو عالمی ترقی کا انجن قرار دے رہا ہے، ایس اینڈ پی نے 18 برس بعد بھارت کی ریٹنگ اپ گریڈ کی ہے اور فچ نے بھارت کی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی اعتبار کو سراہا ہے۔‘‘وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ بھارت اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے، مہنگائی قابو میں ہے اور زرعی پیداوار نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت دودھ کی پیداوار، جنرک دواؤں کی تیاری اور ویکسین کی پیداوار میں دنیا میں سرِفہرست ہے۔مودی نے کہا کہ پچھلے 11 برسوں میں بھارت نے موبائل ڈیٹا استعمال میں عالمی سطح پر پہلا مقام حاصل کیا ہے، جبکہ یو پی آئی دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی نظام بن چکا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اب موبائل فون مینوفیکچرنگ میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے، جبکہ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، شمسی توانائی، ایوی ایشن مارکیٹ اور میٹرو نیٹ ورک کے شعبوں میں بھی بھارت عالمی سطح پر ٹاپ تین ممالک میں شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی قوتِ خرید عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھارت کو ایک پرکشش منزل بناتی ہے۔انہوں نے سوراشٹر اور کچھ خطوں کو بھارت کی ترقی کا مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے اب مینوفیکچرنگ، گرین انرجی، گرین ہائیڈروجن، بندرگاہی ترقی اور صنعتی سرمایہ کاری کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔مودی نے انکشاف کیا کہ کچھ میں 30 گیگاواٹ صلاحیت کا دنیا کا سب سے بڑا ہائبرڈ رینیوایبل انرجی پارک قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ دھولیرہ میں بھارت کی پہلی سیمی کنڈکٹر فیکٹری بھی قائم ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گجرات کے بندرگاہی نظام کے ذریعے بھارت کی بڑی برآمدات انجام پاتی ہیں اور گزشتہ سال صرف گجرات کی بندرگاہوں سے تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار گاڑیاں برآمد کی گئیں۔وزیراعظم نے اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس قوانین میں جدید اصلاحات، انشورنس سیکٹر میں 100 فیصد ایف ڈی آئی، لیبر ریفارمز اور جی ایس ٹی اصلاحات نے معیشت کو نئی رفتار دی ہے۔یو این ایس کے مطابق کانفرنس کے دوران بڑے صنعت کاروں نے بھی سرمایہ کاری کے بڑے اعلانات کیے۔ ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے اگلے پانچ برسوں میں گجرات میں 7 لاکھ کروڑ روپے سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جبکہ اڈانی گروپ نے کچھ میں 1.5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔غیر ملکی مہمانوں میں روانڈا اور یوکرین کے سفیروں نے بھی بھارت کی ترقی، وزیراعظم مودی کی قیادت اور گجرات کے ترقیاتی ماڈل کو سراہا اور بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔وائبریںٹ گجرات ریجنل کانفرنس 11 اور 12 جنوری کو منعقد ہو رہی ہے جس کا مقصد سوراشٹر اور کچھ خطوں میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔