انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کی کشمیر تنازع پر تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی عالمی طاقتوں کو بھارت اور پاکستان پر باہمی احترام اور پرامن تعلقات کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔مانیٹرنگ کے مطابق اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان دونوں ہمسایہ ممالک کو چاہیے کہ وہ باضابطہ دو طرفہ تعلقات بحال کریں اور کشمیری سیاسی رہنماؤں کے ساتھ دوبارہ رابطہ کریں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کشمیری ایکٹوسٹ کی حمایت کرتا ہے، تاہم شورش پھیلانے والے زیادہ تر علیحدگی پسند مقامی ہی ہیں۔
رپورٹ میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک حوصلہ افزا پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ بیک چینل رابطے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔البتہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی واقعہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ادھر پاکستان نے بھی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عالمی برادری کو ایک دوٹوک پیغام بھیجا گیا ہے جس میں دنیا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھارت کو اس متنازع خطے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی اجازت نہ دے۔
واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا اس خطے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے ایک طویل المدتی منصوبہ ہے اور اس نے بلا روک ٹوک اس پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری خصوصاً امریکا کو غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور 75 سال پرانے تنازع کو حل کرنے کے لیے بھارت کو بامعنی اقدامات پر بھی قائل کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے تفصیلاً بتایا کہ کس طرح 5 اگست 2019 کو بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مکمل الحاق کی کوشش کی۔منیر اکرم نے بھارت کو ان یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سے روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے انتہا پسند حکمرانوں نے اپنی جانب سے اسے حتمی حل قرار دیا جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
واشنگٹن میں کشمیری کمیونٹی نے ہندوستانی سفارت خانے کے باہر ایک چھوٹا سا احتجاج منعقد کیا کیونکہ کورونا وبا کے سبب بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں تھی۔مظاہرین نے بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف نعرے لگائے اور امریکا پر زور دیا کہ وہ بھارت کو قائل کرے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا ان کا عالمگیر حق استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔منیر اکرم نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نہ صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کی توثیق کی ہے بلکہ اس نے ایسا کرنے کا طریقہ کار بھی طے کیا ہے جوکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے ہوگا۔










