طالبان کی افغانستان میں پیش قدمی کشمیر میں عسکریت پسندوں کو فروغ دے گی:ماہرین

طالبان کی افغانستان میں پیش قدمی کشمیر میں عسکریت پسندوں کو فروغ دے گی:ماہرین

سرینگر//نئی دلی میں پالیسی ساز اس بات پر فکر مند ہیں کہ افغانستان سے نیٹو فوج کی پسپائی یا مکمل انخلاء کے بعد افغان طالبان کی توجہ کشمیر پر مرکوز نہ ہو ۔ جبکہ طالبان نے صاف کیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔مانیٹرنگ کے مطابق افغانستان میں نیٹو کا مشن دو دہائیوں کی جنگ کے بعد اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے لیکن افغان قوم کے غیر یقینی مستقبل کے امکانات، بھارت میں سلامتی کے خدشات پیدا کررہے ہیں۔ نئی دہلی میں پالیسی ساز حلقے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے بڑھتے کنٹرول کے سبب خطے میں خصوصا متنازعہ علاقے کشمیر میں عسکریت پسندی کو مزید تقویت نہیں ملے۔افغان طالبان کے مطابق انہوں نے افغانستان کے پچاسی فیصد علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ماسکو میں پریس کانفرس کے دوران افغان مذاکرات کار شہاب الدین دلاور نے جمعہ نو جولائی کو کہا کہ افغانستان کے 398 اضلاع میں سے تقریبا 250 پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔ واضح رہے طالبان کے اس دعوے کی تاہم غیرجانبدار ذرائع نے تصدیق نہیں کی ہے۔قبل ازیں شمالی افغانستان میں عسکریت پسند گروہ کے پرتشدد حملے سے بچ کر سینکڑوں افغان فوجی تاجکستان کی طرف فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اس بات سے افغانستان میں سلامتی کی تیزی سے خراب ہوتی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر افغان طالبان اسی طرح اپنی پیش قدمی جاری رکھیں گے اور مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیں گے تو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی مسلح عسکریت پسندی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ معروف دفاعی تجزیہ کار اور سابق بھارتی فوجی افسر پروین سوہنی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرطالبان دوبارہ اقتدارمیں آتے ہیں تو کشمیر پر اس کا یقینی طور پر اثر ہو گا۔ سوہنی سمجھتے ہیں کہ افغان صدر اشرف غنی کے زیر قیادت موجودہ حکومت زیادہ دیر اقتدار میں نہیں رہ سکے گی۔امریکا کے افغانستان مشن کی سیاسی باقیات کا تعین وقت کرے گا لیکن اس کا بچا کھچا دھاتی اسکریپ اور کچرا ہے جو سارے افغانستان میں بکھرا ہوا ہے۔ امریکا بگرام ایئر بیس کو ستمبر گیارہ کے دہشت گردانہ واقعات کی بیسویں برسی پر خالی کر دے گا۔سوہنی کے بقول، ’’طالبان جنگجو مٹی کے فرزند ہیں۔ وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں پر کنٹرول کا دعوی کر رہے ہیں۔ ایسے میں نیٹو کے انخلا کے بعد، مجھے کشمیر پر اس کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘بھارتی آرمی چیف منوج مکند نے رواں ماہ کے آغاز میں عالمی انسداد دہشت گردی کونسل کے زیر اہتمام ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فائر بندی کے معاہدے کے بعد، کشمیر کی صورتحال میں خاص طور پر مسلح عسکریت پسندی کے حوالے سے نمایاں بہتری واقع ہوئی ہے۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے۔نئی دہلی میں سکیورٹی امور کی ماہر ین کانکشا نارائن کہتی ہیں کہ سن 1989 میں افغانستان سے سوویت یونین کی واپسی کے بعد، ماضی میں سوویت کے خلاف لڑنے والے مجاہدین، چیچنیا، کشمیر اور مشرق وسطیٰ جیسے دیگر غیرملکی مسلح تنازعات میں شریک ہو گئے تھے۔ اس مرتبہ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد موجودہ غیرملکی تنازعات میں اِن جنگجوؤں کی شمولیت کے امکانات ہیں۔ اس لیے بھارت کو کشمیر میں عسکریت پسندوں کو شہ ملنے کے حوالے سے خدشہ ہے۔گزشتہ تین دہائیوں میں بھارتی حکام کی طرف سے کشمیر میں عسکریت پسندوں سے نمٹنے کی خاطر کئی اقدامات لیے گئے ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے اعلیٰ پولیس افسران کی طرف سے خطے میں عسکریت پسندی ختم ہونے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلح جنگجو اب فرار ہیں۔سکیورٹی امور کے ماہر راہل بیدی کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج اور مقامی پولیس نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سکیورٹی اور انٹیلی جنس کا ایک مضبوط نیٹ ورک تیار کیا ہے۔ بیدی کے بقول، ’’بھارت اب بہتر طریقے سے تیار ہے اور پاکستان کی طرف سے آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘