افغانستان کے حکمراں اسلام پسند طالبان کے اعلیٰ سفارت کار نے روس کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ داعش کے ہزاروں عسکریت پسند شمالی افغانستان میں جمع ہوگئے ہیں جو وسطی ایشیائی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بدھ کو کابل میں ملک سے سوویت فوج کے انخلا کی 34 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں ایک ٹیلی ویژن تقریر میں سوال اٹھایا کہ کس طرح ہزاروں لوگ ایک ہی جگہ پر جمع ہوئے ہیں اور پھر بھی کوئی انہیں نہ دیکھ سکا اور نہ ہی پہچان سکا؟‘‘متقی نے کہا کہ “ہم سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا حل بتائیں اور اگر انہیں کوئی تشویش ہے تو ہم سے بات کریں۔ لیکن کئی دہائیوں کی جنگ سے دوچاراس قوم کے کو بدنام کرنے اوراس کے مصائب میں اضافہ کرنے والے بے بنیاد الزامات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘‘طالبان کا یہ ردعمل ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب روسی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل نے کہا تھا کہ “شدت پسند گروہوں” نے افغانستان میں “پاؤں جما لیے ہیں” اور خطے میں استحکام کے لیے “سب سے بڑا خطرہ” بن گئے ہیں۔










