سرینگر//افغانستان میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد دائش کے دبدبہ کو خارج از امکان قراردیتے ہوئے افغان طالبان نے کہا ہے کہ ہم دائش یا اور کسی غیر ملکی شدت پسند تنظیم کو ملک میں جگہ فراہم نہیں کریںگے ۔ طالبان نے کہا ہے کہ اس کیلئے ہم نے مختلف ممالک کو اپنے سفیر بھیج دئے ہیں اور انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے گی کہ طالبان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دیگا۔مانیٹرنگکے مطابق افغان طالبان نے کہا ہے کہ طالبان غیر ملکی لڑاکوں کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔دی نیوز نے افغان طالبان کے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔رپورٹ کے مطابق طالبان نے افغانستان میں غیر ملکی تشدد پسند گروپوں کے بارے میں خدشات کو دور کرنے کے لئے کچھ علاقائی ممالک میں نمائندہ وفد بھیجا ہے۔ علاقائی ممالک کو یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ طالبان غیر ملکی شدت پسندوں کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔طالبان نے ان خدشات کو بھی دور کیا ہے کہ امریکہ فوج کے مکمل انخلاء کے بعد دائش افغانستان میں اپنا دبدبہ قائم کرنے کی کوشش کرے گا انہوں نے کہا کہ ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے اور ناہی کسی اور شدت پسند تنظیم کو کسی غیر ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ طالبان کے سینئر ارکان کے مطابق ان کی اعلی قیادت نے شیخ عبدالحکیم کی صدارت والے قطر واقع سیاسی دفتر کو چین، ایران اور روس نیز کچھ دیگر ممالک کے ساتھ فوری رابطہ کرنے اور انہیں یقین دہانی کرانے کے لئے کہا گیا ہے کہ وہ وہاں کے باغیوں اور تشدد پسندوں کی حمایت نہیں کریں گے۔طالبان کے ایک سینئر لیڈر نے کہا ’’روس، چین اور ایران سمیت کچھ ممالک کو افغانستان میں چھپے شدت پسندوں کے بارے میں کچھ اعتراض تھے۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے کہ ہم غیر ملکی شدت پسندوں کو کسی دیگر ملک، خاص طور پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے خلاف اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ طالبان کے وفد نے روس، ایران اور کچھ وسط ایشیائی ممالک کا دورہ کیا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ اقتدار میں آنے کے بعد انہیں افغانستان سے اپنی سکیورٹی کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ غیر ملکی لڑاکوں کو ملک چھوڑنے کے لئے نہیں کہیں گے کیونکہ وہ پناہ گزینوں کے طور پر ان کے پاس آئے تھے، لیکن انہیں مہمان نوازی کا فائدہ اٹھانے اور اپنے لئے مسائل پیدا نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے پاکستان کے تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں اور افغانستان میں بلوچ قوم پرست لیڈروں کے بارے میں بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین کا استعمال نہیں کرسکیں گے‘‘۔










