سرینگر// جنوبی ضلع پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث لوگوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اسی دوران مقامی لوگوں نے محکمہ آر ینڈ بی اور ضلع انتظامیہ پلوامہ پر الزام عائد کیا ہے کہ سڑکوں کی طرف اس ترقیاتی یافتہ دور میں بھی کوئی دھیان نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو منٹوں کا سفر گھٹنوں میں طے کرنا پڑتا ہے جبکہ کئی اوقات بیماروں کو اسپتالوں تک پہنچنے کیلئے پیدل ہی سفر کرنا پڑتا ہے ۔سی این آئی نمائندے کے مطابق قصبہ پلوامہ سے علاقہ رہموہ کی سڑک جو کہ 11کلو میٹر کا سفر ہے کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہو گئی ہے ۔نمائندے کے مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سڑک کی حالت اس قدر خستہ ہو گئی ہے کہ اس سڑک سے پیدل سفر کرنا مشکل کی بات ہے جبکہ گاڑیوں میں سفر کرنا دور کی بات ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں اس ترقی یافتہ دور میں ریاستی سرکار لوگوں کو تمام تر بنیادی سہولیات بہم رکھنے کے بڑے بڑے دعوئے کر رہی ہے تاہم اکسیویں صدی میں بھی اس علاقے میں سڑک کی خستہ حالت ان تمام دعوئوں کی پول کھول رہی ہے ۔مقامی لوگوںکا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے اس معاملے کو لیکر کئی مرتبہ متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کیا تھا تاہم انہوں نے بھی آج تک اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کے دوران موجودہ مخلوط سرکار نے لوگوں سے بڑے بڑے وعدے کرکے ان سے ووٹ حاصل کئے اور جب الیکشن میں انکو کامیابی حاصل ہو ئی تو انہوں نے لوگوں کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ نمائندے کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی حالت اس قدر خستہ ہو گی ہے کہ اس سڑک پر پیدل چلنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے ۔ انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کی مرمت جلد عمل میں لائی جائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہو سکے اور سڑک کو جلد از جلد قابل آمد رفت بنایا جائے۔ادھر ضلع کے مختلف دیہات کی بھی سڑکیں انتہائی خستہ بن چکی ہے جس کے باعث لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ معمولی بارشیں ہونے کے ساتھ ہی سڑکوںپر چلنا محال ہو جاتا ہے ۔ لوگوں نے الزام عائد کہا کہ محکمہ آر اینڈ بی ان سڑکوں کی تعمیر و تجدید کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔










