ضلع شوپیان کے متعدد دیہات میں ٹرانسپورٹ کی پریشانی

سرینگر /جنوبی کشمیر ضلع شوپیاںدرجنوں دیہات میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے لوگوں کو گونا گوں پریشانیوںسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے میڈیا نمائندہ شکیل احمد نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کو گاڑیوں کے حوالے سے سخت مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے کہا ہے کہ ان کے درجنوں دیہات میں سومو سروس اگرچہ باضابط طور جاری ہے تاہم سومو ڈرائیوروں کی من مانی کرایہ سے لوگ تنگ آچکے ہیں کیونکہ ان کے پاس وہ مالی سکت نہیں ہے کہ وہ سومو میں سوار ہوکر بھاری رقم بطور کرایہ ادا کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کے دوران لوگوں کی مالی حالت ابتر ہوئی اور ابھی تک سنبھلنے کا نام نہیں لے رہے ہیں لیکن سومو گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات نہ آئو دیکھتے ہیں اور نہ پائو ۔انہوں نے کرایہ میں غیر معلوی اضافہ کیا ہے جو ناانصافی پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ان کے دیہات میں منی بس (مٹاڈور) سروس چل رہی تھی اور لوگ کم کرایہ پر ایک جگہ سے دوسرء جگہ پہنچتے تھے لیکن منی بس سروس نامعلوم وجوہات کی بنیادی پر بند ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔اس سلسلے میں لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ درجنوں دیہات میں سومو گاڑیوں کے کرایہ میں نمایاں کمی لائی جائے یا تو منی بس (مٹاڈور ) سروس بحال کی جائے تاکہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے میں کو ئی مشکل پیش نہ آجائے ۔