Amit Shah

ضلع جموں گوڈ گورننس انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہے اس کے بعد ڈوڈہ ، سانبہ اور پلوامہ

جموں//وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعے جاری کی گئی پہلی ڈسٹرکٹ گُڈ گورننس انڈیکس ( ڈی جی جی آئی ) کی جامع درجہ بندی میں یہاں جموں ضلع سرفہرست رہنے میں کامیاب ہوا ہے اس کے بعد ڈوڈہ ، سانبہ ، پلوامہ اور سرینگر کے اضلاع ہیں ۔ ڈی جی جی آئی ایک فریم ورک دستاویز ہے جس میں گورننس کے دس شعبوں کے تحت کارکردگی پر مشتمل ہے جس میں 116 ڈیٹا پوائینٹس کے ساتھ 58 اشارے ہیں ۔ یہ معیار ہر ایک اضلاع کے ذریعہ ڈیٹا اکٹھا کرنے ، اسکریننگ اور تصدیق کے سخت اور مضبوط عمل کے بعد اپنایا گیا ہے ۔ اس انڈیکس کے تحت جن گورننس سیکٹر کی کارکردگی کا جائیزہ لیا گیا ان میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے (11 اشارے ) ، تجارت اور صنعت ( 5 ) ، انسانی وسائل کی ترقی ( 9 ) ، صحت عامہ ( 9 ) ، پبلک انفراسٹریکچر اور یوٹیلیٹیز ( 6 ) ، سماجی بہبود اور ترقی ( 6 ) ، مالی شمولیت ( 3 ) ، عدلیہ اور پبلک سیفٹی ( 4 ) ، ماحولیات ( 2 ) اور سٹیزن سینٹرک گورننس ( 3 ) شامل ہیں ۔ انفرادی زمروں کے تحت زراعت کے شعبے میں کشتواڑ کو سرفہرست درجہ دیا گیا ہے ، سی اینڈ آئی اور سٹیزن سینٹرک گورننس کے 2 سیکٹروں میں جموں ، ایچ آر ڈی میں پلوامہ ، پبلک ہیلتھ میں ریاسی ، پبلک انفراسٹرکچر میں سرینگر ، سماجی بہبود میں رام بن ، مالیاتی شمولیت میں گاندر بل ، عدالتی اینڈ پبلک سیفٹی میں ڈوڈہ اور ماحولیات میں شوپیاں شامل ہے ۔ مجموعی درجہ بندی میں گاندر بل 6 ویں مقام پر ، اننت ناگ 7 ویں ، بارہمولہ ضلع 8 ویں مقام پر ، کٹھوعہ 9 ویں اور کپواڑہ 10 ویں مقام پر ہے ۔ انڈیکس میں آخری 10 ضلعوں میں کشتواڑ 11 ویں نمبر پر ہے جس کے بعد بڈگام ، اودھمپور ، ریاسی ، بانڈی پورہ، رام بن ، کولگام ، شوپیاں ، پونچھ اور راجوری کے اضلاع جامع درجہ بندی میں انڈیکس میں سب سے نیچے ہیں ۔ اضلاع کی درجہ بندی سے اضلاع کے درمیان صحت مند مقابلہ ہو گا جس سے شہریوں کو بہت فائدہ ہو گا ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات ( ڈی اے آر پی جی ) ، سی جی جی حیدرآباد کے ذریعے تکنیکی مدد کے ساتھ مشق کیلئے ہندوستان کی رہنمائی اور مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے ۔ جے اینڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ فار پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ( امپارڈ ) ، ڈائریکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ سٹیٹسٹکس ( ڈی ای ایس ) کے فعال تعاون کے ساتھ یو ٹی کیلئے اس انڈیکس کو تیار کرنے میں اہم ایجنسیاں تھیں ۔