کمیونٹی کی شمولیت ،مضبوط نفاذ اور بحالی کے اَقدامات پر زور
بڈگام//ضلعی سطحی کی 41ویں این سی او آر ڈِی ( نار کو کوآرڈی نیشن ) کمیٹی کی میٹنگ آج ڈِی سی آفس بڈگام میں ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ کے ساتھ ایس ایس پی بڈگام نکھل بورکر کی صدارت میں منعقد ہوئی تاکہ بڈگام میں منشیات کے خلاف جاری تازہ اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔میٹنگ میں اے ڈِی سی بڈگام، تمام ایس ڈی ایم، اے سی ڈی، سی ایم او، ڈی ایس ڈبلیو او، میڈیکل سپراِنٹنڈنٹ ڈی ایچ بڈگام، تمام گورنمنٹ ڈِگری کالجوں کے پرنسپل ، میونسپل کمیٹیوں کے اِی اوز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔میٹنگ کے شروعات میں سابقہ این کورڈ میٹنگ کے فیصلوں پر کی گئی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ضلع بھر میں 77 کنال اور 18 مرلہ پر پھیلی جنگلی بھنگ کو تلف کیا گیا ہے جبکہ ناجائز کاشت کے خلاف 55 مقدمات درج کئے گئے اور 38 چالان کئے گئے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ منشیات کا استعمال محض ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جو کنبوں اور کمیونٹیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پرزور دیا کہ منشیات کے خلاف جنگ میں سمگلروں، ڈیلروں اور کاشتکاروں کے ساتھ سختی ضروری ہے جبکہ متاثرین کو علاج اور بحالی کے لئے ہمدردانہ تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ روکتھام، قانون نافذ کرنے، علاج اور عوامی بیداری پر مشتمل جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ تمام لائن ڈیپارٹمنٹ کو منشیات کی کاشت اور خرید و فروخت کے خاتمے کے لئے کوششوں میں تیزی لانے کی ہدایت دی گئی۔ مزید کہا گیا کہ مربوط کوششوں کے ذریعے سڑکوں، پشتوں اور پنچایتی علاقوں کو بھنگ اور پوست کی کاشت سے پاک رکھا جائے۔ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے اب تک کی پیش رفت کی سراہنا کی، تاہم اُنہوں نے کہا کہ مستقل، فعال اور نمایاں کارروائی ضروری ہے تاکہ عوام کو اِنتظامیہ کے عزم پر اعتماد رہے۔اُنہوں نے ڈرگ ریگولیشن کے بارے میں تمام میڈیکل سٹوروں میں صد فیصد سی سی ٹی وی کوریج اور کمپیوٹرائزڈ بلنگ سسٹم (سی بی ایس) کی اہمیت پر زور دیا۔ بتایا گیا کہ بڈگام میں 630 ریٹیل اور 225 ہول سیل میڈیکل سٹور ہیںجن کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بار بار معائینے جاری رہیں اور خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کی جائے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے مزید کہا کہ ڈرگ اِنسپکٹر کو لائسنس منسوخی اور دیگر خلاف ورزیوں سمیت کی گئی کارروائیوں کی وسیع تشہیر یقینی بنانی چاہیے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔بتایا گیا کہ ٹیلی مانس ذہنی صحت ہیلپ لائن پر اب تک 117 کالیں موصول ہوئی ہیںجو اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ڈِی سی نے کہا کہ اس سہولیت کی مزید تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ لوگ بہ آسانی اور رازداری کے ساتھ مدد حاصل کر سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز کو غیر قانونی فصلوں کی تلفی وتباہی اور ایف آئی آر کے اندراج کے لئے ریونیو اور پولیس حکام کے ساتھ قریبی تال میل میں کام کرے گا۔
ایس ڈی ایمز سے کہا گیاکہ وہ مذہبی سکالروں اور کمیونٹی نمائندوں کے ساتھ میٹنگیں منعقد کریں تاکہ منشیات کے خلاف خطبات اور ’’نشہ مکتی پنچایت‘‘ کو فروغ دیا جا سکے۔مزید کہا گیا کہ محکمہ دیہی ترقی خصوصی گرام سبھائیں منعقد کرے گا جبکہ ڈی ایس ڈبلیو او دیہات، قصبوں اور تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پربیداری مہمات چلائے گا۔ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے کہا کہ ڈِسٹرکٹ ہسپتال بڈگام میں ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹی (اے ٹی ایف) چوبیس گھنٹے فعال رہنا چاہیے۔ مزید بتایا گیا کہ ڈرگ ڈی ایڈکشن سنٹر اب ایسے مریضوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جنہیں علاج کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ بڈگام کی تمام ڈگری کالجوںمیں کیمپس کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں تاکہ نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں، کاشتکاروں اور سمگلروں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی جبکہ نشے کے شکار افراد کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مہم تبھی کامیاب ہوگی جب سرکاری اِدارے، سول سوسائٹی، کمیونٹی کے عمائدین، اساتذہ، والدین اور مذہبی سکالر متحد ہو کر اَپنا کردار اَدا کریں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ بڈگام کو منشیات کی سپلائی چین توڑکر اور متحدہ کمیونٹی کارروائی کے ذریعے نوجوانوں کو کی حفاظت کرکے پورے یو ٹی کے لئے ایک مثال قائم کرنی ہوگی۔










