ڈپٹی کمشنر نے دیاتحقیقات کا حکم، سٹور کیپر کے خلاف کارروائی کا آغاز
سرینگر/یو این ایس/ شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ضلعی ہسپتال کے احاطے میں زائد المیعاد (ایکسپائرڈ) ادویات کے ڈھیر کو کھلے عام آگ لگا دی گئی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے کام کاج پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق منگل کے روز ہسپتال کے آکسیجن پلانٹ کے پیچھے واقع کھلے حصے میں بھاری مقدار میں ادویات کے کارٹن اور پیکٹ جلتے ہوئے دیکھے گئے۔ آگ سے اٹھنے والا زہریلا دھواں پورے ہسپتال اور گردونواح میں پھیل گیا، جس سے مریضوں اور تیمارداروں میں بے چینی پھیل گئی۔ ماہرینِ صحت اور ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ عمل ’بائیومیڈیکل ویسٹ مینجمنٹ رولز 2016‘ کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے تحت ایسی ادویات کو مخصوص طریقہ کار کے ذریعے ٹھکانے لگانا لازمی ہے۔مقامی لوگوں اور مریضوں نے اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ دواؤں کو تلف کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ایسا کیا جاتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، مبینہ طور پر ہسپتال حکام نے باقی ماندہ اسٹاک کو چھپانے یا اسے جلدی میں ٹھکانے لگانے کی کوشش بھی کی تاکہ کسی ممکنہ کارروائی سے بچا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ، اندو کنول چِب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی مکمل چھان بین کا یقین دلایا ہے۔ہسپتال انتظامیہ نے اس معاملے کی گہرائی سے انکوائری کے لیے ایک 7 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی مندرجہ ذیل پہلوؤں پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ سات دنوں کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے تاکہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔










