تحریر حسن ساہو

صغیر صاحب کو باپ بننے کا شاید زیادہ ہی شوق تھا ۔ ہسپتال میں تھیڑ کے باہر بے چینی سے ٹہل رہے تھے ۔ اتنے میں نرس نے آکر خوش خبری سُنائی ۔
’’مبارک ہو ۔پیاری سی بیٹی ہوئی ہے ۔‘‘
یہ سُن کر صغیر صاحب نے مایوسی کے عالم میں سر جُھکا لیا۔ یہ دیکھ کر نرس بُولی ۔
’’کیا ہوا صاحب، آپ کو اِتنی خوبصورت بچی کی پیدائش پر خوشی نہیں ہوئی؟‘‘
’’ارے لڑکا ہوتا تو میرا سہارا بنتا ۔‘‘
یہ سُن کے نرس نے گلو گیر آواز میں کہا ۔
’’صاحب! کیا لڑکا لڑکالگا رکھا ہے ۔۔۔میرا بھی بھائی ہے ۔اس نے بڑھاپے میں اپنے والد ین کو چھوڑ کر بے آسرا کردیاہے ۔میں نہ ہوتی تو وہ مر ہی جاتے ۔‘‘
نام کی تلاش
ایک نوجوان خاتون ملبوسات کی فیکٹری کے ایک گوشے میں بہت دیر سے ٹیلی فون ڈائرکٹری کی ورق گردانی کرنے میں مصروف تھی۔ ایک صاحب پاس ہی ڈائرکٹری خالی ہونے کے منتظر تھے۔ مجبور ہوکے خاتون سے مخاطب ہوئے ۔
’’اگر آپ کواعتراض نہ ہو تو ایک منٹ کے لئے ڈائرکٹری مجھے دیجئے ۔ نمبر جانچ کر فوراً واپس کروں گا۔‘‘
خاتون نے ڈائرکٹری اُس کے حوالے کردی اور کہا ۔
’’برائے مہربانی جلد واپس کریں ۔ دراصل میں اپنے نوزائدہ بچے کے لئے خوبصورت نام تلاش کررہی ہوں ۔‘‘
نادانی
اشتیاق اپنے دوست رشید سے ۔
’’یار میری بیوی وفا شعار واقع ہوئی ہے ۔‘‘
رشید نے حیرت سے پوچھا ۔
’’وہ کیسے ؟‘‘
اشتیاق بولا۔
’’کل رات بہن رضیہ کو دیکھنے کچھ لوگ آئے تھے ۔ کھانا کھانے کے بعد جب مہمان چلے گئے تو میں نے بیوی سے گرم پانی مانگا اور اُس نے فوراً لادیا ۔‘‘
رشید اِس پر بُولے ۔
’’رات کو گرم پانی کی ضرورت کیوں پڑی تھی؟‘‘
اِس لئے کہ جُھوٹے برتن آسانی سے دھوسکوں ۔‘‘
یہ اشتیاق کا فخریہ جواب تھا۔
معصوم ادائیں

ماسٹر جی نے دوسری جماعت کے طالب علم مسرور کو آواز دی اور پُوچھا ۔
’’کل تم اِسکول کیوں نہیں آئے تھے؟‘‘
’’سرکل میرے دانت میں درد تھا اورماں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گیا تھا۔‘‘
اس پر ماسٹر جی نے کہا ۔
’’آج تو درد نہیں ہے ؟‘‘
’’معلوم نہیں سر‘‘ مسرور معصومیت سے بولاتھا
’’کیا مطلب :تمہیں اپنے دانت کے درد کا علم نہیں ۔ظاہر ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو‘‘
اِس پر مُسرور نے عاجزی سے کہا ۔
’’جی نہیں ! یقین کیجئے میں سچ بول رہا ہوں ۔ دراصل ڈاکٹر نے میرا دانت نکال کر اپنے پاس رکھا ہے۔
تـالیـاں
سرکاری سطح پر موسیقی کی محفل کا اہتمام کیا جارہاتھا۔ ایک صاحب منیجر کے پاس آئے اور پروگرام میں شرکت کی اِجازت مانگی۔
پروگرام منیجر نے پوچھا ۔
’’آپ کو ستار بجانا آتا ہے ؟‘‘
’’جی نہیں ‘‘ اُن صاحب نے کہا ۔
’’طبلہ بجا سکتے ہیں؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ ’’پھر آپ کیا بجا ئیں گے؟ ‘‘
منیجر نے غصے سے پُوچھا ۔
اُن صاحب نے برملا کہا ۔ ’’تالیاں۔‘‘
شِکوہ
گلابو جان کے کوٹھے پر موج مستی کے عالم میں رات گزارنے کے بعد نواب اختر میاں سیدھے سماج سُدھار کمیٹی کے جلسے میں جاکے زور دار تالیوں کے درمیان وعظ فرما نے لگے۔
’’یقین کرو مجھے واقعی شِکوہ ہے اُن لوگوں سے جن کے گھروں کی بہو بیٹیاں بن سنورکر ، بہترین میک اپ کرکے اور نیم عریاں لباس میں ملبوس وقت بے وقت گھروں سے باہر جایا کرتی ہیں اور لڑکوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں۔‘‘
صلاح
ایک چوکس پولیس والے نے پُل پر سے دریا میں خُود کشی کرتے ہوئے شخص کو عین وقت پر پکڑلیا اور کہا ۔
’’اگر تم دریا میں چھلانگ لگانے میں کامیاب ہوجاتے ۔تو مجبورا ً تمہیں بچانے کے لئے مجھے بھی دریا میں کودنا پڑتا۔ غضب کی سردی ہے۔ دریا کا پانی برف سے بھی زیادہ ٹھنڈ ا ہے۔۔۔ ڈوبنے پر جب میں تمہیں دریا سے باہر نکالتا تو ہم دونوں کو سردی کے مارے ڈبل نمونیا ہو چکا ہوتا ۔اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہم دونوں دم توڑ چکے ہوتے ۔۔۔مجھے تمہاری بدقسمتی کا یقین ہے ۔مگر میںنے کیا قصور کیا ہے ۔ میں بال بچے والا ہوں۔۔۔میری مانو۔تو شریف آدمی کی طرح گھر میں پنکھے میں رسی ڈال کر لٹک جائو۔۔۔
۔۔۔جائو شاباش ۔۔‘‘
راست بازی
توقع رکھتا ہُوں کہ نصیحت سے لبریز مندرجہ ذیل عبارت اعلیٰ فِکر نوجوانوں کو صحیح انداز میں اِقدام کرنے پر اُکسائے گی۔
’’صورت کے متلاشی۔۔۔ خاص کر شریک حیات کے انتخاب میں فقط ظاہری شکل و صورت کو ترجیح دیتے ہیں اور قائم و دائم رہنے والی خصوصیت ۔۔۔یعنی سیرت کی جانب دھیان نہ دے کر اکثر پچھتا تے رہتے ہیں۔‘‘
زلزلہ

ایک صاحب اپنے کمرے میںآرام کرسی پر براجمان اخبار پڑھنے میں مشغول تھاکہ اچانک مکان کے درو دیوار ہلنے لگے۔ ساتھ ہی گِرنے کی آواز اور بیوی کی چیخ سُن کر وہ اُس کے کمرے میں گیا۔ دیکھا کہ بھاری بھرکم بیوی فرش پر چِت پڑی ہے اُن صاحب نے بے قراری کے انداز میںکہا۔
’’بیگم تمہارا اُٹھنا تو مشکل ہے ۔ میں اُٹھانے کے لئے بیٹے راشد کو لئے آتا ہوں ۔ البتہ اتنا واضح کر دو کہ تم زلزلہ آنے سے گِری یا تمہارے گِرنے سے زلزلہ آیا؟‘‘
زیر کی
شوہر بیوی سے ۔۔۔
’’ارے بیگم عید کی آمد ہے۔تمہارے لئے اس خوشی کے موقع پر کیا تحفہ لائوں ؟‘‘
بیوی مُنہ بُسور تے ہوئے بُولی ۔
’’کچھ نہیں‘‘
’’ارے ایک بار کہہ کے دیکھ لو۔یقین کرو میں تمہارے لئے آسمان
کے تارے توڑ کر لا سکتا ہوں۔‘‘
بیوی زیر لب مُسکرادی اور کہا۔
’’فی الحال آپ کنویں میں سے ایک بالٹی پانی لے آئیں تاکہ میں
غسل کر سکوں۔‘‘
لمبا سفر
ایک آدمی جموں سے ناگپور جانے والی ٹرین میں سفر کررہا تھا ۔البتہ جِس جِس اسٹیشن پر ریل گاڑی رُکتی وہ آدمی اُتر کر اگلے اسیشن کی ٹکٹ خرید لیتا تھا۔
آخر ایک ہمسفر سے نہ رہا گیا۔وجہ دریافت کی کہ اُس نے جُموں سے دہلی تک کی ٹکٹ ایک ساتھ کیوں نہیں خریدی ۔
اِس پر وہ من چلا بولا۔
’’دراصل ڈاکٹر نے مجھے لمبا سفر کرنے سے منع کیا ہے۔ ‘‘










