A world-renowned craniomaxillofacial surgeon will visit Skimms Medical College in May

صورہ اسپتال میں وارڈ بیسڈ ٹیکنالوجی سے چلنے والا نظام متعارف

1,100 نئی بھرتیوں کا اعلان، مریضوں کے انتظار کے وقت میں کمی کا مقصد

سرینگر//یو این ایس// شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے مریضوں کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے وارڈ بیسڈ، ٹیکنالوجی پر مبنی غیر مرکزیت نظام اپنا لیا ہے، انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرڈاکٹر محمد اشرف گنائی نے نے یہ بھی اعلان کیا کہ انتظار کے وقت کو کم کرنے کے لیے 1,100 نئی اسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں گی۔ڈاکٹر گنائی کے مطابق، اس اقدام کا مقصد جموں و کشمیر میں صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا اور مریضوں کو اعلیٰ درجے کی جانچ اور علاج کے لیے ریاست سے باہر جانے کی ضرورت کم کرنا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا’’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی مریض کسی بھی قسم کی جانچ یا علاج کے لیے جموں و کشمیر سے باہر جائے۔‘‘ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ کے وڑن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدمات کو اپ گریڈ کر کے اعلیٰ معیار کی طبی سہولت مقامی طور پر دستیاب کرائی جائے گی۔ڈائریکٹر نے بتایا کہ تقریبا 1,100 خالی اسامیوں کو جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ اور جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرا جائے گا، جس سے نہ صرف خدمت کی فراہمی بہتر ہوگی بلکہ وارڈز میں مریضوں کے بوجھ میں بھی کمی آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وارڈز میں جدید طبی آلات بھی نصب کیے گئے ہیں، جن میں تقریباً 39 کروڑ روپے کی قیمت کا لینئر ایکسلریٹر شامل ہے، جس سے کینسر کے علاج کی خدمات کو تقویت ملے گی۔ڈاکٹر گنائی نے بتایا کہ وارڈ بیسڈ نظام کی بدولت تشخیص میں تیزی، مریضوں کی بہتر نگرانی اور صحت کے ماہرین کے درمیان بہتر ہم آہنگی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سکمز تحقیق، تعلیم اور مریضوں کی دیکھ بھال میں نمایاں ترقی کر رہا ہے اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے ایک مضبوط طبی ماحولیاتی نظام قائم کر رہا ہے۔