سری نگر//کشمیر میں منہ کھر کی بیماری (FMD )ابتدائی طور پر ضلع بڈگام میں مئی 2021 ء کے مہینے کے دوران بھیڑوں میںپھیلنے کی اطلاع ملی تھی اور محکمہ نے فوری طور پر اِقدامات کئے اور متاثرہ علاقوں کو (رنگ ویکسی نیشن) کے دائرے میںلاکر جانوروں کی ویکسی نیشن شروع کردی اور طبی معاملات کا علاج پیش کیا۔ رواں سال کے دوران حکومت ہند کی NADCP کی سکیم کے تحت ایف ایم ڈی ویکسی نیشن کی جانی تھی جس میںکووِڈ۔19 وبا کی وجہ سے تاخیر ہوئی اور اس کے مطابق محکمہ نے اس بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے اَپنے وسائل سے ویکسین کی خریداری کے لئے فعال اِقدامات کئے۔سٹریٹجک رنگ ویکسی نیشن کے تحت تقریبا 1.50 لاکھ ویکسین لگائی گئی ہیں تاہم ASCAD 2021 کے تحت پوری آبادی کو دائرے میں لا کر مکمل کرنے کے لئے ویکسین کی اَصل ضرورت کا تخمینہ عائد کیا گیا ہے اور محکمہ اِس بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے ویکسین اور اَدویات دستیاب کرانے کے لئے تمام اِقدامات کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 17,000 متاثرہ شدہ بھیڑوںو بکریوں میں سے 12,000 سے زائد بھیڑیں اور بکریاں مکمل طور پر صحت یاب ہو چکی ہیں اور باقی صحت یابی کی راہ پر گامزن ہیں۔ اِس دوران تقر یباً 188 اَموات بھی درج کر دی گئی ہیں جو کہ بھیڑ بکریوں کی آبادی کے تناسب سے بالکل ہی کم ہے ۔ضلع بڈگام کے علاوہ گریز اور سونہ مرگ سیکٹروں سے بھی بیماری کی اطلاع ملی ہے جہاں گزشتہ 04 دنوں کے دوران کوئی نئی اَموات کی اطلاع نہ ہونے کے ساتھ صورتحال پر بھی کافی قابو پا لیا گیا ہے۔اِس وباء کی روکتھام میں شرکت کرنے والے فیلڈ ویٹس کے علاوہ محکمہ نے فوری طور پر ڈیزیز انویسٹی گیشن لیب نوشہرہ کے ماہرین کو تعینات کیا جنہوں نے اَموات اور بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے ہرقسم کے علاج کے اِقدامات کو یقینی بنایا۔ ٹیموں نے متاثرہ علاقوں سے ضروری نمونے اِکٹھے کئے اور ٹیسٹ بھونیشور BSL-2لیب کو بھیجے گئے جس سے بیماری کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ اِس دوران متاثرہ معاملات کا تمام علامتی علاج کیا جارہا ہے۔ ڈیزیز انویسٹی گیشن لیبارٹری نوشہرہ کے ماہرین کی 05 ٹیمیں کشمیر ڈویژ ن کے 10 اضلاع کے لئے تعینات کی گئی ہیں تاکہ پورے ڈویژن میں کسی بھی قسم کی بیماری کی وباء پر سخت نگرانی کی جاسکے خاص طور پر وادی کے مختلف علاقوں سے موسمی ہنکاوکرنے والے ریوڑوں کی ۔ وادی کے بھیڑ اور بکریاں پالنے والوں کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ضروری حفاظتی اقدامات کریں اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔کیونکہ یہ بیماری عام طور پر بڑے مویشیوںکے مقابلے میں بھیڑ بکریوں میں زہریلی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ بر وقت محکمانہ کوششوں کے نتیجے میں اس بیماری پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور تمام ضروری اَدویات اور اَفرادی قوت کو تمام غیر محفوظ مقامات پر دستیاب رکھا ہے۔محکمہ نے سب الپائن اور ہائلینڈ چراگاہوں میں تقریباً 150 اِبتدائی طبی اِمداد کے کیمپ قائم کئے ہیں تاکہ ان چراگاہوں میں تمام وسائل دستیاب رہیں جہاں موسم گرما کے دوران ریوڑ چرنے کے لئے جاتے ہیں تاکہ اس بیماری پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ضروری علاج فراہم کریں۔ محکمہ ایک بار پھر متعلقہ بھیڑ اور بکریاں پالنے والوں کو مشورہ دیتا ہے کہ ا نہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بیماری بھیڑوں میں کم سے کم اموات کا سبب بنتی ہے اور انہیں محکمہ کی طرف سے جاری کردہ مشاورت پر عمل کرنا چاہئے ۔ بھیڑ اور بکریاں پالنے والوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بھیڑ اور بکریوں کو ہونے والے کسی بھی نقصان کو روکنے کے لئے بروقت مداخلت کے لئے قریبی ویٹرنری کیئر پروفیشنلوںکی اطلاع میں ایسی بیماری کا کوئی بھی معاملہ لائیں۔










