سری نگر// عالمی یومِ ذیابیطس کے موقعہ پر ذیابیطس سے متعلق بیداری پیدا کرنے اور صحت مند طرزِ زِندگی کو فروغ دینے کے لئے منعقدہ واکتھون کا صوبائی کمشنرکشمیر انشل گرگ اور ڈائریکٹرسکمز و ای او ایس جی پروفیسر محمد اشرف گنائی نے سری نگر کے مشہورِ زمانہ گھنٹہ گھرسے مشترکہ طور پر جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا۔اِس موقعہ پر سکمزکے سینئر فیکلٹی ممبران، ہیڈ شعبہ اطفال سرجری و ایسو سی ایٹ ڈین سٹوڈنٹ ویلفیئرپروفیسر نثار احمد بٹ اور ہیڈ آف ایمرجنسی میدیسن پروفیسر ابرار احد وانی موجود تھے۔صوبائی کمشنر کشمیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکمز کے اقدام کی ستائش کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات بیماری کی جلد روکتھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی شمولیت ایسے بیداری پروگراموں میں نہایت ضروری ہے تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی ذیابیطس کی شرح پر قابو پایا جا سکے۔اُنہوں نے لوگوں میں ذیابیطس کے اسباب کے بارے میں وسیع پیمانے پر بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے ڈائریکٹرسکمز سے کہا کہ وہ ہائی رسک مریضوں کی نشاندہی کرکے انہیں طبی اِمداد فراہم کریں۔اس موقعہ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے ڈائریکٹر سکمزنے کہا کہ مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ ذیابیطس سے متاثر ہے جس سے مسلسل عوامی بیداری کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ پروفیسر اشرف نے ابتدائی روکتھام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذیابیطس کو بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا ،’’ لوگوں کو صحت مند طرزِ زِندگی اَپنانے کی ضرورت ہے۔‘‘اور اُنہوں نے مزید کہا کہ شہری علاقوں میں ذیابیطس کی شرح دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اُنہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ فعال طرزِ زِندگی اور صحت مند غذائی عادات اختیار کریں۔اُنہوں نے پروفیسر ریاض مسگر اور ڈاکٹر اعجازکی سربراہی میں آرگنائزنگ کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا۔واکتھون کے بعد، جوگرز پارک راجباغ میں ایک سکریننگ کیمپ کا اِنعقاد کیا گیا جہاں سکمز کے ماہرین نے تقریباً 300 افراد کی سکریننگ کی۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ 40سے 45برس کی عمر کے 20 شرکأ میں نئی ذیابیطس کی تشخیص ہوئی جو کہ اس بیماری کے بوجھ میں اضافے کو ظاہر کرتاہے۔ تشخیص شدہ افراد کو مزید تشخیص اور علاج کے لئے شعبہ اینڈوکرائنولوجی سکمز سے رابطے کی ہدایت دی گئی۔تقریب کے دوران عوام الناس کی کونسنگ کی گئی اور انہیں ذیابیطس سے بچائو، بروقت تشخیص اور طرزِ زِندگی میں تبدیلی سے متعلق معلوماتی پمفلٹ بھی فراہم کئے گئے۔










