وادی کشمیر سے ’’مادہ سفیدوںکے درختوں‘‘کو ختم کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں
سرینگر//سوشل فارسٹری ماہرین نے کہا ہے کہ سفیدوںکے درختوں سے نکلنے والی روئی صرف ’’مادہ درختوں ‘‘سے نکلتی ہے اور محکمہ نے ’’مادہ درختوں ‘‘کے بجائے ’’نر درختوں ‘‘کو اُگانے کا کامشروع کیا ہے اور آئیندہ چند برسوں میں اہلیان وادی کو روسی سفیدوںکے درختوں سے نکلنے والی روئی سے مکمل طور پر چھٹکارا مل جائے گا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی مخصوص درختوں سے نکلتی ہے ۔ محکمہ سوشل فارسٹری نے کہا ہے کہ صرف ’’مادہ درختوں ‘‘سے ہی روئی نکل رہی ہے اور محکمہ نے اب مادہ درختوں کے کاٹنے کے ساتھ ساتھ زمینداروں میں ’’نر درختوں ‘‘کے پودے تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کی وجہ سے آئیندہ چند برسوں میں ہی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔سوشل فارسٹری ماہرین نے وی او آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی کشمیر سے ’’مادہ سفیدوںکے درختوں‘‘کو ختم کرنے میں چند برسوں لگ سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شہر سرینگر میں روسی سفیدوں کے درختوں کی بھر مار ہے اور شہری آبادی ان درختوں کی شاخ تراشی بھی نہیں کررہی ہے جس کی وجہ سے شہر سرینگر میں روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنی والی روئی بہت زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مارچ سے قبل ہی ان درختوں کی شاخ تراشی کی جاتی تو روئی نکلنے میں کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جن کے صحنوں میں میں اس قسم کے درخت ہیں وہ کاٹ ڈالیں اور ان کے بدلے ’’نر‘‘درختوں کو محکمہ سے حاصل کرکے لگائیں تاکہ اس نسل کو ختم کیا جاسکے ۔ واضح رہے کہ روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی کی وجہ سے اہلیان وادی کو سخت زہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ درختوں سے نکلنے والی روئی ناک اور منہ میں چلی جاتی ہے جو چھاتی کے الرجی کا موجب بنتی ہے جبکہ اس روئی سے نزلہ ، زکام اور دیگر امراض پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ماہرین صحت نے اس روئی کو مضر صحت قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ راہ چلتے وقت اپنے منہ اور ناک کو ماسک یا کسی اور کپڑے سے ڈھانپ لینا چاہئے ۔ صوبائی انتظامیہ نے اگرچہ وادی میں روسی سفیدوں کے درختوں کو اُگانے پر پابندی عائد کی ہے اور متعلقہ محکمہ جات کو ہدایت کی تھی کہ جہاں پر بھی مذکورہ درخت ہوں ان کو کاٹ دیا جائے تاہم انتظامیہ کی ہدایت زمینی سطح پر عمل درآمد نہیں ہوا جس کے سبب مذکورہ درختوں کی بھرمار ہے اور ہر برس موسم گرماء شروع ہوتے ہی درختوں سے نکلنے والی روئی ہوا میں اُڑ کر لوگوں کے منہ اور ناک میں چلی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ادھر امراض اطفال کے ماہرمعالجین نے کہاہے کہ روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی جہاں بڑوں کیلئے مضر ہے وہیں یہ بچوں کیلئے بھی باعث بیماری بنتی ہے ۔ روئی اگر بچوں کے حلق میں چلی جاتی ہے تو بچے ، بخار، نزلہ زکام اور کھانسی کے امراض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر مسعودی جو سکمز کے شعبہ اطفال کے سابقہ ہیڈ رہے ہیں نے سی این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو اس سے دور رکھنا چاہئے کیوں کہ بچوں میں بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافت کم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بچے جلد ہی الرجی کے شکار ہوتے ہیں اور بخار اور دیگر امراض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں۔ادھر عوامی حقوں نے صوبائی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان روسی سفیدوںکے درختوں کے کاٹنے کے لئے فوری طور پر ہدایت جاری کریں تاکہ آئیندہ اس وباء سے لوگوں کو چھٹکارا مل جائے ۔










