kashmiri faran

صرف لباس نہیں اجتماعی شناخت کی جذباتی اور تہذیبی داستان

فیرن:روایتی فن سے جدید رجحانات تک ،کہیں صدیوں پر محیط ثقافت، جدید فیشن اور نوجوان نسل کی تخلیقی تلاش کا سفر

سرینگر//یو این ایس// کشمیر کی سرد وادیوں میں’ فیرن‘ صرف لباس نہیں، بلکہ شناخت، تہذیب اور تاریخ کی علامت ہے۔ مگر بدلتے وقت کے ساتھ فیرن کی معنویت، اس کا سماجی کردار اور اس کے گرد گھومتی سیاست، معیشت اور ثقافت نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق مورخین کے مطابق’ فیرن ‘کا استعمال کشمیر میں صدیوں سے جاری ہے۔ یہ لباس سرد موسم سے تحفظ کے ساتھ ساتھ کشمیری شناخت کا نمایاں استعارہ رہا ہے۔فیرن کی تاریخ کشمیر کی تہذیبی روایت سے گہری جڑی ہوئی ہے۔ مغل دور میں ’فیرن‘ نے شاہی دربار سے عوامی سطح تک اپنی جگہ بنائی، جب کہ بعد ازاں ڈوگرہ عہد اور پھر جدید دور میں بھی یہ روایت برقرار رہی۔یو این ایس کے مطابق کشمیر میں فیرن کی ارتقا کی داستان پندرھویں صدی سے واضح طور پر سامنے آتی ہے، جب سلطان زین العابدین جیسے روشن خیال حکمرانوں کے دور میں مقامی دستکاریوں کو فروغ ملا اور فیرن ایک سادہ قمیص نما لباس سے ترقی کر کے ایک نفیس اور باوقار پوشاک کی شکل اختیار کر گیا۔ مغل دور میں باریک اور قیمتی کپڑوں کا رواج عام ہوا اور فیرن کی افادیت اور خوبصورتی کو مزید پذیرائی ملی، جس کے نتیجے میں اس کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ فیرن محض لباس نہیں رہا بلکہ سماجی طبقاتی فرق کی علامت بن گیا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اشرافیہ، جاگیرداروں اور درباریوں کے فیرن جامہ وار (پشمینہ اور ریشم کے امتزاج) یا خالص پشمینہ سے تیار کیے جاتے تھے اور ان پر تِلّا (سونے کے تار) کی نفیس کڑھائی کی جاتی تھی۔ ان میں سب سے شاہانہ انداز’قراب دار فیرن‘ تھا، جس کے اگلے حصے پر گھنی اور چمکدار کڑھائی میں پھول بوٹوں اور بیل دار نقش و نگار بنائے جاتے تھے۔ یہ صرف لباس نہیں بلکہ دولت اور وقار کی نمائش بھی تھا۔ اس کے برعکس عام لوگ، جن میں کسان، کاریگر اور مزدور شامل تھے، موٹے اون یا سوتی کپڑے سے بنے سادہ فیرن استعمال کرتے تھے جو سخت سردی میں گرمی اور روزمرہ ضرورت کے لیے ایک عملی اور دیرپا لباس ثابت ہوتا تھا۔ ثقافتی ماہرین کہتے ہیں کہ’ فیرن‘ کی بناوٹ، کڑھائی اور کپڑے کی نوعیت ہر دور میں بدلتی رہی، مگر اس کی روح ، سادگی اور عملی افادیت ، ا?ج بھی قائم ہے۔گزشتہ برسوں میں ’فیرن ‘محض لباس نہیں رہا بلکہ شناخت کی علامت بن گیا ہے۔ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں ’فیرن‘ کو کشمیری ثقافت کے نشان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں، ثقافتی تقریبات اور سیاحتی مہمات میں’ فیرن ‘کو فروغ دیا جا رہا ہے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات’ فیرن‘ کو علامتی سیاست کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جہاں ثقافت کے تحفظ کے نام پر حقیقی مسائل، جیسے بے روزگاری، تعلیم اور صحت ، پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ماضی میں فیرن روزمرہ لباس تھا، مگر آج شہری نوجوانوں میں اس کا استعمال محدود ہو چکا ہے۔ اسمارٹ فونوں، سوشل میڈیا اور عالمی فیشن ٹرینڈس کے اثرات نے نوجوانوں کے لباس کے انتخاب کو متاثر کیا ہے۔تاہم ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔یو این ایس کے مطابق جدید ڈیزائنرز نے فیرن کو فیشن ایبل انداز میں متعارف کرایا ہے۔ نئی نسل میں شارٹ فیرن، بیلٹ فیرن اور ماڈرن کٹس کی مانگ بڑھ رہی ہے، جس سے روایت اور جدیدیت کا امتزاج سامنے آ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق ’فیرن‘ کی تیاری سے وابستہ درزی، کشیدہ کار، کپڑا فروش اور چھوٹے تاجر ہزاروں خاندانوں کی معیشت کا سہارا ہیں۔ سرینگر، بڈگام، بارہمولہ اور اننت ناگ میں فیرن کی مارکیٹ سردیوں میں خاصی متحرک رہتی ہے۔درزیوں کے مطابق ہر سال سردیوں کے سیزن میں’ فیرن‘ کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، تاہم بڑھتی مہنگائی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے نے کاریگروں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ کئی درزیوں کا کہنا ہے کہ لاگت بڑھنے کے باوجود گاہک قیمت بڑھانے پر آمادہ نہیں، جس سے منافع کم ہو رہا ہے۔سرکاری سطح پر متعدد بار فیرن کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر اس کے فروغ کی بات کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق سیاحتی محکمے کی جانب سے مختلف تقریبات میں فیرن کو بطور ثقافتی علامت پیش کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ تعلیمی اداروں میں فیرن ڈے منایا جاتا ہے۔تاہم ثقافتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تقریبات سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ حکومت مقامی کاریگروں کو مالی امداد دے، دستکاری کے شعبے کو سہارا دے اور فیرن سے وابستہ صنعت کو باقاعدہ پالیسی کے تحت فروغ دے۔فیرن آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف جدیدیت، فیشن اور بدلتا طرز زندگی ہے، تو دوسری طرف صدیوں پر محیط روایت اور شناخت۔ سوال یہ نہیں کہ فیرن باقی رہے گا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اسے محض علامتی سطح پر زندہ رکھا جائے گا یا عملی طور پر اس سے وابستہ ثقافت اور معیشت کو بھی تقویت دی جائے گی۔اگر حکومت، سماج اور نوجوان نسل سنجیدگی سے فیرن کو اپنے ثقافتی ورثے کے طور پر اپنائیں تو یہ لباس نہ صرف زندہ رہے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی شناخت کا مضبوط نشان بن سکتا ہے۔