جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی زندہ روایت، عبادت، ثقافت اور روزگار کا حسین امتزاج
سرینگر//یو این ایس// ماہِ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر کی فضا میں ایک مانوس اور روح پرور آواز گونجنے لگتی ہے۔ گہری تاریکی اور سناٹے کو چیرتی ڈھول کی تھاپ اور بلند صدا ’’وقتِ سحر!‘‘ نہ صرف روزہ داروں کو بیدار کرتی ہے بلکہ صدیوں پرانی ایک تہذیبی اور مذہبی روایت کو بھی تازہ کر دیتی ہے۔ یہ روایت سحرخوانوں کی ہے، جو نسل در نسل اس خدمت کو عبادت اور ثقافتی ورثے کے طور پر انجام دیتے آئے ہیں۔اسلامی قمری تقویم کا نواں مہینہ رمضان، چاند کی رویت سے شروع ہوتا ہے اور ایک مہینے کے روزوں کے بعد عیدالفطر پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن روزہ ہے، اور سحری اس عبادت کا اہم حصہ ہے۔ کشمیر میں’’سحرخوانی‘‘ کی روایت صدیوں پر محیط ہے، جب جدید ذرائع ابلاغ اور الارم گھڑیاں موجود نہیں تھیں۔ اس وقت سحرخوان ہی لوگوں کو جگانے کا واحد ذریعہ تھے، اور آج بھی ٹیکنالوجی کی یلغار کے باوجود یہ روایت پوری آب و تاب سے جاری ہے۔سرینگر شہر اور وادی کے مختلف قصبوں میں ہر سحرخوان ایک یا دو محلوں کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ رات گئے تک جاری تراویح کی نمازوں کے بعد جب لوگ چند گھنٹوں کیلئے آرام کرتے ہیں تو سحرخوان علی الصبح تین بجے کے قریب اپنی ڈیوٹی شروع کر دیتے ہیں، جو فجر تک جاری رہتی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا الارم بند کیا جا سکتا ہے، مگر سحرخوان کی ڈھول کی آواز پورے محلے کو بیک وقت جگا دیتی ہے اور رمضان کی مخصوص فضا قائم کرتی ہے۔یو این ایس کے مطابق وادی کے شمالی اور دور دراز علاقوں جیسے کپواڑہ، بانڈی پورہ اور کلاروس سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد ہر سال رمضان سے قبل سرینگر کا رخ کرتے ہیں۔ کئی نوجوان اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض کیلئے یہ ذریعہ معاش ہے، کیونکہ رمضان کے اختتام پر اہلِ محلہ اپنی استطاعت کے مطابق انہیں معاوضہ یا نذرانہ پیش کرتے ہیں، جو ان کے گھریلو اخراجات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کچھ سحرخوانوں کا کہنا ہے کہ گیارہ ماہ کی محنت مزدوری کے باوجود انہیں اتنی آمدنی حاصل نہیں ہوتی جتنی رمضان کے اس ایک مہینے میں ہو جاتی ہے۔تاہم زیادہ تر سحرخوان اس خدمت کو محض روزگار نہیں بلکہ عبادت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق روزہ داروں کو سحری کیلئے جگانا ایک نیکی ہے اور وہ اس عمل کو رضائے الٰہی اور آخرت کے اجر سے جوڑتے ہیں۔ کئی بزرگ سحرخوان پچاس برس سے زائد عرصے سے یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں اور آج بھی اسی جذبے کے ساتھ گلیوں میں ڈھول بجاتے نظر آتے ہیں۔ماہرین سماجیات کے مطابق سحرخوانی محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافتی شناخت، باہمی یگانگت اور اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ یہ روایت محلوں میں ربط و تعلق کو مضبوط کرتی ہے اور رمضان کے مقدس مہینے کو ایک خاص روحانی رنگ عطا کرتی ہے۔اگرچہ اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل الارم نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، مگر وادی کے بیشتر باشندوں کا ماننا ہے کہ سحرخوانوں کے بغیر رمضان کی رونق ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ ڈھول کی وہ مانوس تھاپ نہ صرف سحری کی اطلاع دیتی ہے بلکہ ایمان، روایت اور بھائی چارے کی ایک زندہ علامت بن چکی ہے۔یوں جدید دور کی تیز رفتار زندگی میں بھی کشمیر کے سحرخوان اپنی ڈھول کی صدا کے ساتھ یہ پیغام دیتے ہیں کہ روایتیں صرف یادوں میں نہیں بلکہ عمل میں زندہ رہتی ہیں۔










